تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 13 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 13

تاریخ احمدیت 13 دبی پڑی ہے اس لئے وہ کہیں ملی نہیں آپ نے کہا جاؤ اور پھر تلاش کرو چنانچہ بہت تلاش کے بعد وہ صحابی ملے وہ زخمی تھے اور پیٹ پھٹا ہوا تھا تلاش کرنے والے صحابی نے کہا اپنے رشتہ داروں کو کوئی پیغام پہنچانا ہے تو دے دو ہم پہنچادیں گے وہ کہنے لگے اور تو کوئی پیغام نہیں میرے عزیزوں تک صرف اتنا پیغام پہنچا دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اب یہ فرض تم پر ہے اور میری آخری خواہش یہ ہے کہ میرے خاندان کے سارے افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں اگر تم ایسا کرو گے تو میری یہ موت خوشی کی موت ہوگی۔تو دیکھو صحابہؓ نے تو عملی طور پر قربانیاں کی تھیں اور تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں تھوک میں بڑے پکائے دلیلیں دینا کون سی بڑی بات ہے دلیلیں دے کر گھر آ گئے لیکن وہاں یہ ہوتا تھا کہ صحابہ میدانِ جنگ میں جاتے تھے اور پھر بسا اوقات انہیں اپنے بیوی بچوں کی دوبارہ شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوتی تھی۔ایک عورت کے متعلق تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو اس کے خاوند کو آپ نے کسی کام کے لئے باہر بھیجا ہوا تھا۔جب وہ صحابی مدینہ واپس آئے تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے جا چکے تھے اور اس صحابی کو اس کا علم نہیں تھا۔وہ صحابی سیدھے گھر آئے اپنی بیوی سے انہیں بہت محبت تھی وہ گھر میں گھسے اور بیوی انہیں نظر آئی تو انہوں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے جسم سے چمٹا لیا لیکن اس زمانہ کی عورتیں بھی اس زمانہ کے مردوں سے زیادہ مخلص ہوتی تھیں اس عورت نے خاوند کو دھکا دیا اور کہنے لگی تجھے شرم نہیں آتی کہ خدا تعالیٰ کا رسول تو جان دینے کے لئے رومیوں کے مقابلہ کے لئے گیا ہوا ہے اور تجھے اپنی بیوی سے پیار کرنا سوجھتا ہے۔اس بات کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت اس نے اپنا گھوڑا پکڑا اور سوار ہو کر تبوک کی طرف چلا گیا اور کئی منزلوں پر جا کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر مل گیا تو اس قسم کی ہمت اگر تم بھی اپنے اندر پیدا کرلو تو دین کی اشاعت کوئی مشکل امر نہیں۔جلد ۲۰