تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 278
تاریخ احمدیت 278 جلد ۲۰ برعکس حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ تن تنہا اٹھے اور لوگوں کو ( دین حق ) کی طرف بلایا تو لوگ جوق در جوق ان کے گرد اکٹھے ہو گئے۔انہوں نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تیری جماعت زمین کے کناروں تک پھیل جائے گی۔چنانچہ آج ہم اپنی آنکھوں سے اس پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔احمدی دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں اور انہوں نے دین حق کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دی ہوئی ہیں۔اور روز بروز جماعت کو مزید ترقی حاصل ہوتی جارہی ہے۔یہ ایک بین امتیاز ہے جو دوسرے مذاہب کے مقابل احمدیت میں آپ کو نظر آ سکتا ہے۔اس سال ہیگ میں جماعت احمدیہ کے یورپی مشنوں کی کامیاب چھٹی سالانہ کانفرنس ۱۹ تا ۲۱ ستمبر ۱۹۵۸ء) کو منعقد ہوئی۔کانفرنس کا افتتاح حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں منجملہ دیگر نصائح کے اس بات کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی کہ مبشرین احمدیت کو کیتھولک فرقہ کی تاریخ کا پوری طرح علم ہونا چاہئے۔یہ فرقہ آج تک کن کن حالات سے گزرا ہے اور کس کس رنگ کی تبدیلی اس میں پیدا ہوئی ہے۔یہ نظام عیسائیت کا سب سے اہم نظام ہے اور زمانہ وسطی کی نسبت آج بہت زیادہ مضبوط ہے ان کے متبعین بڑی پختگی کے ساتھ اپنے عقائد پر قائم ہیں اور یہ امر عین قرین قیاس ہے کہ تبلیغی دوڑ میں ہمارا آخری مقابلہ اسی فرقہ سے ہو۔لہذا ان کے متعلق ہماری معلومات بہت وسیع ہونی چاہئیں۔آپ نے عیسائیت کے دیگر مکاتیب فکر کے عقائد اور مذہبی رجحانات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتلایا کہ آج کل ایک گروہ بڑی سرعت کے ساتھ بڑھ رہا ہے جو امریکہ میں عام ہے مگر یورپ میں بھی پاؤں پھیلا رہا ہے وہ آزاد خیال عیسائی ہیں جو کٹر عیسائی عقائد کے خلاف ہیں اور اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں درحقیقت یہ فرقہ لوگوں کو آہستہ آہستہ مذہب سے دور بلکہ دور تر لے جا رہا ہے۔بظاہر ان کا حملہ عیسائیت پر نظر آتا ہے مگر دراصل یہ حملہ مذہب پر ہے۔یہ گروہ اپنی آزادانہ روش کے پیش نظر سب سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کا مقابلہ ہمیں سب سے پہلے کرنا ہوگا۔حضرت چوہدری صاحب نے مزید فرمایا کہ تبلیغ میں جب وسعت پیدا ہو تو اس کے لئے تربیت یافتہ آدمیوں کی بھی بہت ضرورت ہوگی جس کی طرف مرکز کو خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ وہ مغرب کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مبلغین تیار کرے۔فلسفہ اور تاریخ ادیان کے مضمونوں کے علاوہ زبان کا مسئلہ بہت اہم ہے۔مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے عربی ، انگریزی ، فرانسیسی اور سپینش زبانیں بہت ضروری ہیں۔قرآن کریم کا علم پوری طرح ہو اور مبلغین اس کی تلاوت