تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 279 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 279

تاریخ احمدیت 279 جلد ۲۰ خوش اسلوبی سے کر سکتے ہوں۔اس کے ساتھ ہی علم حدیث میں بھی دسترس بہت ضروری ہے۔حدیث کے مطالعہ اور شغف سے انسان اپنے آپ کو صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں محسوس کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے آپ نے اس ضمن میں الواح الہدی (اردو ترجمہ "ریاض الصالحین کے مطالعہ کی طرف خاص توجہ دلائی اور فرمایا کہ دعا کی عادت بھی پختہ ہونی چاہئے اس سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے اس صورت میں بفضلہ تعالیٰ پھر کسی بھی میدان شکست کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔اسی روز مبلغین کی کامیاب پریس کانفرس ہوئی جس میں یورپ کو واضح لفظوں میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی کہ اب دین حق کی منظم تبلیغ یورپ میں شروع ہو چکی ہے۔ہمارا کام ان ممالک میں نہ سکول کھولنا ہے نہ ہسپتال بنانا ہے نہ عوامی بہبود کے دیگر اداروں کا اجرا کرنا ہے۔ان کاموں پر یورپ پہلے ہی خاص توجہ دے رہا ہے جس چیز کی طرف توجہ نہیں کی جارہی وہ انسان کی روحانیت ہے۔خدا تعالیٰ کو دلوں سے بھلا دیا گیا ہے۔اب ( دینِ حق ) اس خلا کو پر کرے گا۔کانفرنس کے دوسرے روز یورپ میں تبلیغ کو وسیع تر اور تیز تر کرنے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے اور شام کو ہیگ کے مشہور ہال (DIEREN TUIN) میں ایک شاندار پبلک جلسہ ہوا جس میں ملک کے طول و عرض کے معززین نے بکثرت شرکت کی۔پریس رپورٹر اور پریس فوٹوگرافر بھی موجود تھے۔جلسہ کی صدارت کے فرائض عبد اللہ خاں اونک (ABDULLAH V۔ONCK) نے انجام دیئے اور اس سے بالترتیب مندرجہ ذیل مبلغین نے خطاب فرمایا: مولود احمد خاں صاحب دہلوی امام بیت فضل لنڈن (( دین حق ) کا تعلق دوسرے مذاہب کے ساتھ ) چوہدری کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین ( جہاد کے متعلق اسلامی نظریہ ) چوہدری عبد اللطیف صاحب بیت ہمبرگ ( ( دین حق ) میں عورت کا مقام ) سید کمال یوسف صاحب مبلغ سکنڈے نیویا (اسلامی نظریہ نجات) شیخ ناصر احمد صاحب مبلغ سوئٹزرلینڈ ( حضرت مسیح قرآن مجید کی روشنی میں ) صاحب صدر ہر تقریر کا خلاصہ ڈچ زبان میں پیش فرماتے رہے جو سامعین کے لئے بڑی سہولت اور دلچسپی کا باعث ہوا۔ان ایمان افروز تقاریر کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مقدسہ پر ایک معرکہ آراء لیکچر دیا جو نہایت درجہ اثر انگیز تھا۔یہ کا نفرنس اس ملک کے لئے ایک منفرد اور مثالی کانفرنس تھی جو ہر اعتبار سے کامیاب رہی۔حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج ہالینڈ مشن اور ان کے نائب مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل