تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 277
تاریخ احمدیت 277 جلد ۲۰ منفرد حیثیت رکھتی ہے اور مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں بھی اس جماعت کا ایک ادنی ممبر ہوں۔آپ نے جماعت کی تاریخ نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرماتے ہوئے طلباء پر اس کے قیام کی غرض و غایت واضح فرمائی اور بتلایا کہ بیسویں صدی کے نصف میں جوہری توانائی نے ایک غیر معمولی ترقی حاصل کر لی ہے اور جہاں اس کے ذریعہ انسانوں نے بہت سے مادی اور دنیوی فوائد حاصل کئے ہیں وہاں انہیں بہت سے خطر ناک اور کٹھن مسائل سے بھی دو چار ہونا پڑا ہے۔اس نئی مصیبت سے نجات اور مخلصی حاصل کرنے کے لئے بہت سی تدابیر کی گئیں۔اسے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے جانچا گیا تا اس خطرہ کا کوئی مناسب اور معقول حل تلاش کیا جائے مگر نتیجہ یہی ہے کہ ابھی تک معاملہ جوں کا توں ہے۔موجودہ دور کے اہم ترین اور بظاہر لایل مسائل کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے آج سے ساٹھ سال قبل ہی جب کہ ان حالات کے پیدا ہونے کا وہم و گمان بھی نہ تھا ان ساری باتوں سے لوگوں کو خبر دار کر دیا تھا اور جماعت احمدیہ کی بنیا د رکھتے ہوئے ان مسائل کے بہترین حل پر بھی روشنی ڈال دی تھی اور بتلا دیا تھا کہ اس بے اطمینانی اور بے چینی کا حل صرف اور صرف مذہب ہی پیش کر سکے گا۔جماعت احمدیہ کا ایمان ہے کہ اگر دنیا مذہب کی طرف پورے طور پر توجہ کرے تو خوف و ہر اس اور بے چینی کی تاریک گھٹائیں خود بخود چھٹ کر روشنی کا سورج نمودار ہوسکتا ہے لیکن اس موقع پر یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکمل راہنمائی صرف وہی مذہب کر سکتا ہے جو اپنے اندر زندگی رکھتا ہو اور جس کی تعلیم بغیر کسی شک وشبہ کے خدا تعالیٰ کے اپنے الفاظ پر مشتمل ہو اور خدا تعالیٰ اس کی پشت پناہی کرتا ہو اور ایسا مذہب صرف ( دینِ حق ) ہی ہے کیونکہ قرآنِ پاک خدا تعالیٰ کے اپنے الفاظ مشتمل ایک زندہ اور عمل ہدایت ہے۔یہ وہ صاف اور شفاف چشمۂ آب شیریں ہے جو پیاسوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے ہر وقت جاری وساری ہے اور ہر زمانہ اور ہر حالت میں اس کے زندگی بخش پانی سے سینچے ہوئے درخت و پودے پھل پھول سکتے ہیں۔تقریر کے دوران میں آپ نے بتلایا کہ لنڈن میں مجھ سے عیسائیوں کے میتھوڈسٹ فرقہ (METHODIST) کے لیڈر نے اپنی ایک کانفرنس کے موقع پر ذکر کیا کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نئی پود چرچ سے علیحدہ ہوتی جارہی ہے۔آپ نے فرمایا آخر اس کی وجہ کیا ہے یہی کہ اب ان کے پاس روحانی تشنگی دور کرنے کی قوت جاتی رہی ہے اس کے