تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 276
تاریخ احمدیت 276 جلد ۲۰ ہے اس ادارہ میں بھی حافظ صاحب کو ( دین حق ) پر لیکچر دینے کا موقع ملا جسے جملہ طلباء نے پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا۔اور پھر تین گھنٹے تک گرما گرم بحث جاری رہی۔کالج کے طلباء کے لئے جب اپنے عقائد کو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا تو یہ کہہ کر اپنا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے کہ یہ عقیدہ ایک سربستہ راز (MYSTERY) ہے جس کو انسانی عقل سمجھ نہیں سکتی مگر ان کے پاس اس بات کا کوئی جواز نہ تھا کہ ایک چیز جس کو انسانی عقل قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو اور خلاف عقل ہو اسے قبول کیسے کیا جا سکتا ہے اور اگر عقل کو عقائد کی قبولیت میں کسی قسم کا دخل نہیں ہے تو کسی امر کو رد کرنے یا اپنا لینے کا دارو مدار پھر کس بات پر ہوگا۔انہی دنوں دو مارمن امریکن پادریوں کا مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نائب امام بیت مبارک سے تین گھنٹے تک تبادلۂ خیالات ہوا۔پہلے تو انہوں نے بائبل سے عقائد کو ثابت کرنا چاہا مگر جب اس میں انہیں مشکل نظر آئی تو صاف کہہ دیا کہ بائبل میں بہت سی اغلاط پائی جاتی ہیں اس لئے ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے اور مارمن تحریک کے بانی جوزف سمتھ JOSEPH SMITH) IN) کی تاب BOOK OF MORMON کا سہارا لیا پھر مشن سے چند کتابیں خریدیں اور کسی وقت آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ایک بار لائیڈن یونیورسٹی کے ۲۰ طلباء عین جمعہ کے وقت احمد یہ مشن ہاؤس میں آئے پہلے خطبہ جمعہ بعد ازاں میٹنگ روم میں حافظ قدرت اللہ صاحب کے ( دینِ حق ) پر لیکچر کو سنا اور بعض سوالات کئے جن کے تسلی بخش جواب دیئے گئے۔طلباء کے ساتھ ان کے پروفیسر اور ایک پادری صاحب بھی تھے جنہوں نے ابتداء میں ایک آدھ سوال کیا پھر مصلحنا خاموشی اختیار کر لی۔۱۶ ر جولائی ۱۹۵۸ء کو بیت مبارک میں دنیا کے مختلف ممالک مثلاً ناروے، سویڈن، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، مشرقی مغربی اور جنوبی افریقہ، مصر، شام، لبنان، پاکستان، ہندوستان ، امریکہ اور ہالینڈ کے پچاس کے قریب طلباء مشن ہاؤس میں آئے۔یہ طلباء دنیا کے ممتاز ماہرین اور پروفیسرز صاحبان سے بین الاقوامی قانون کی اعلیٰ اور امتیازی تعلیم حاصل کر ر ہے تھے۔حافظ قدرت اللہ صاحب نے طلباء کو جماعت احمدیہ کی غرض و غایت اور دنیا بھر میں اس کی دینی علمی اور رفاہی خدمات بالخصوص مختلف زبانوں میں تراجم قرآن اور دینی لٹریچر سے متعارف کرایا۔آپ کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وائس پریذیڈنٹ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایمان افروز خطاب فرمایا جس میں آپ نے بتایا کہ ہالینڈ مشن کی مؤسس جماعت احمد یہ ہے جو اگر چہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے مگر اپنی تنظیم اور کام کے لحاظ سے بہت بڑی اور