تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 269
تاریخ احمدیت 269 جلد ۲۰ الجھن میں پڑ جاتی تھی اور میں ممنون ہوں کہ آپ نے ان مسائل کی نہایت سادہ اور واضح تشریح میں اپنی تقریر کی۔ہم سب نے اس امر کو کہ اسلام عیسائیت کو کیا سمجھتا ہے نہایت دلچسپی سے سنا۔مسئلہ صلیب کے متعلق آپ کے اسلامی نظریات ہمارے لئے ایک نئی چیز تھی۔دونوں مذاہب کے متعلق کے سلسلہ میں آپ کی اس قدر واضح تشریح نے ہمیں اسلام کو سمجھنے میں کافی مدد دی ہے۔بالآخر میں تمام طالبات کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے ہمیں ایسے دلچسپ خطاب سے ممنون کیا۔نیز ہمارے تمام سوالات کا اس قدر واضح اور تسلی بخش جواب دیا۔خیر اندیش میرٹن ڈنکسن اس سال احمد یہ مشن میں غانا کے ہائی کمشنر اور سفیر انڈونیشیا جیسی اہم شخصیات کے اعزاز میں شاندار تقریبات کا انعقاد عمل میں آیا۔چنانچہ یکم مارچ ۱۹۵۸ء کو غانا کے ہائی کمشنر مسٹر سافوا جیسے کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں لنڈن کے لیڈی میٹرس برطانوی پارلیمنٹ کے رکن سر ہیرلڈ شوبرٹ نیز پاکستانی ہائی کمیشن کے اعلیٰ حکام اور پاکستان کے چالیس سے بھی زیادہ سر بر آوردہ اصحاب شریک ہوئے۔اس موقع پر جناب مولود احمد خاں صاحب نے مختصر تقریر کی۔ہائی کمشنر صاحب غانا نے جوابی تقریر میں اپنی عزت افزائی پر جماعت احمدیہ کے لنڈن مشن کا شکر یہ ادا کیا اور جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کو سراہا جو وہ غانا میں سرانجام دے رہی ہے۔آپ نے بالخصوص ان سکولوں اور کالج کا ذکر کیا جو جماعت احمدیہ کے غا نامشن نے وہاں قائم کئے ہیں۔۲۱ را پریل کو عید الفطر کی تقریب کس شان سے منائی گئی؟ اس کی تفصیل پاکستان ٹائمنر کے سٹاف رپورٹر کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔سٹاف رپورٹر نے ” خالص دینی ماحول کے زیر عنوان لکھا : - پٹنی کی بیت فضل میں جو جماعت احمدیہ کے مشن کا ہیڈ کوارٹر ہے قریباً ۸۰۰ افراد عید الفطر کی تقریب میں شریک ہوئے ان میں ایک خاصی تعداد غیر مسلم مہمانوں کی بھی تھی۔یہ لوگ پبلسٹی کا بہتر شعور رکھتے ہیں۔اس موقع پر ان کی طرف سے ہر سال ہی بہت بڑی تعداد میں نامور شخصیتوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔امسال ان کے ہاں عید کی تقریب میں لنڈن کے سات میئر اور بہت سے سیاسی مد بر شریک ہوئے۔پھر ان میں وہ سفارتی حکام بھی شامل تھے جنہوں نے اس تقریب میں مغربی جرمنی ، نیپال اور ہندوستان کی نمائندگی