تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 270
تاریخ احمدیت 270 جلد ۲۰ کی۔روسی سفارتخانے کے فرسٹ سیکرٹری خود روسی سفیر مسٹر جیکب ملک کے نمائندے کے طور پر آئے ہوئے تھے۔کیونکہ سفیر موصوف ذاتی طور پر شریک نہیں ہو سکے۔امام بیت فضل لنڈن جناب مولو داحمد خان نے اس خیال سے کہ غیر مسلم مہمان اسلامی تعلیمات سے مستفید ہوسکیں اپنے خطبہ میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی۔آپ نے قرآن مجید میں پیشگوئیوں کے ذکر اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سورۃ القارعہ کو خاص طور پر پیش کیا اور اس کی آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں ایک بہت بڑی عالمگیر مصیبت کی خبر دی گئی ہے جو دنیا کی دو مخالف طاقتوں کی باہمی لڑائی کے نتیجہ میں رونما ہوگی اس وقت انسان پروانوں اور پتنگوں کی طرح پراگندہ حالت میں ہوں گے اور پہاڑ دھنگی ہوئی پشم کی طرح نظر آئیں گے۔آپ نے بتایا کہ ان آیات میں ایٹمی جنگ کے نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا 66 DAY -4 ۲۳ را گست ۱۹۵۸ء کو سفیر انڈونیشیا ہز ایکسی لینسی ڈاکٹر سناریو کے اعزاز میں پر تکلف دعوت دی گئی۔ہز ایکسی لینسی نے لندن مشن اور بیت الذکر فضل لندن کی تعمیر پر جماعت کو بہت بہت مبارکباد دی۔مولود احمد خان صاحب نے جماعت احمد یہ لنڈن کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہا اور اپنی تقریر میں جماعت کی مختصر تاریخ اور احمدیت کی غرض و غایت بیان کی۔ہز ایکسی لینسی نے جوا با جماعت احمد یہ لنڈن کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے فرمایا ” ہم مسلمان ہیں اور دو ایسی قوموں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بہت سی باتیں آپس میں ملتی ہیں ہماری تاریخ، ماضی و مستقبل بھی ایک دوسرے کے بہت قریب ہے اور ہمارے مقاصد کے پورا ہونے کا ایک دوسرے پر بہت انحصار ہے مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے دعوت دی اور مجھے یہاں آنے کا موقع ملا۔اس طرح آپ سب سے بہت سی اہم باتوں پر گفتگو کا بھی موقع ملا جو ہمارے اور آپ کے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہیں۔آپ نے فرمایا جماعت احمدیہ سے میرا تعارف ۱۹۲۹ ء یا ۱۹۳۰ء میں ہوا۔جماعت کے دوستوں سے تو اتنا نہیں جتنا کہ جماعت حمدیہ کی انگریزی تصنیفات سے۔اور میں نے جماعت احمدیہ کے قیام اور اس کے مقاصد کو بڑی دلچسپی سے پڑھا۔اس وقت میں انڈونیشیا میں وکالت کرتا تھا اور مجھے مختلف مذاہب کو پڑھنے اور انہیں