تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 267
تاریخ احمدیت 267 جلد ۲۰ مقالے پیش کرنے کی دعوت دی جائے تو یہ امر بہت کچھ استفادہ کا موجب ہوسکتا ہے۔( ترجمہ ) اس سال بھی دنیا کے تمام بیرونی ممالک کے احمد یہ مشکوں کی دینی سرگرمیاں احمدی مشن دین حق کی اشاعت کے جہاد میں سرگرم عمل رہے جیسا کہ مشنوں کی مطبوعہ رپورٹوں کے درج ذیل خلاصہ سے واضح ہوگا۔امام بيت فضل لنڈن مولود احمد خان صاحب دہلوی نے مشن ہاؤس کے علاوہ انگلستان انگلستان کی بعض اہم سوسائٹیوں مثلاً تھیوسوفیکل سوسائٹی روٹری کلب اور اسلامک سوسائٹی آف برسٹل کے زیر اہتمام فاضلانہ لیکچر دیئے۔جن کی علمی طبقوں میں خوب پذیرائی ہوئی اور ان کو نہایت درجہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور سنا گیا۔چنانچہ صدر روٹری کلب لندن بیلے ڈبلیو بیرل نے امام صاحب کی خدمت میں مکتوب لکھا کہ میں کلب کے جملہ ممبران کی طرف سے آپ کے انتہائی دلچسپ اور معلوماتی لیکچر پر جو آپ نے ہمارے کلب میں تشریف لا کر دیا نہایت درجہ خلوص کے ساتھ آپ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔یقیناً آپ کے اس لیکچر سے ہمیں اسلام کے بنیادی اصولوں اور اعتقادات کا جو آپ کو بے حد عزیز ہیں صحیح اور مکمل تصور قائم کرنے میں بہت مدد ملی۔مسٹر لارنس رابنسن ( کیلفورنیا کی مشہور فرم میسرز لارنس، رابنسن اینڈ سنز کے مالک نے تحریر کیا کہ آپ نے پچھلے دنوں روٹری کلب میں جو لیکچر دیا تھا میں اس سے بے حد محظوظ ہوا میں اس خط کے ذریعہ آپ کے عمدہ لیکچر اور اس کے نفس مضمون کے بارہ میں از راہ تو صیف کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس سے میں بے حد مستفیض ہوا ہوں۔روٹری کلب کی تقاریر کا اثر خاص طور پر نہایت گہرا ہوا اور سامعین کے قلوب و اذہان میں ( دین حق ) کی خوبیاں گھر کرنے لگیں چنانچہ "EASHER NEWS ADWERTISER" نے لکھا کہ ایشر روٹیرین نے آج ایک غیر معمولی تقریر امام صاحب لندن بیت الذکر کی زبانی سنی۔مسٹر مولود انٹر ورتھ روٹری کلب کے ممبر ہیں۔انہوں نے بتایا مغرب میں علوم کا چرچا ہونے کے باوجود یہاں کے لوگ مذاہب کے متعلق اتنا نہیں جانتے جتنا مشرقی اقوام جانتی ہیں۔( دین حق ) اور مسلمانوں کے متعلق عیسائیت کو بہت تھوڑا علم ہے حالانکہ مسلمان خصوصاً احمد یہ جماعت کے افراد عیسائیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ( دین حق ) اور عیسائیت میں اختلافات کچھ اسی انداز سے بیان کئے کہ حاضرین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔انہوں نے ( دینِ حق ) کی