تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 264 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 264

تاریخ احمدیت 264 جلد ۲۰۔ہو جائے گی۔اور انگریزی خوان مسلمان پڑھیں گے تو وہ بھی اچھا ہی اثر لیں گے۔شروع میں فہرست مضامین خوب مفصل ہے۔کتاب جہاں تک کہ تبصرہ نگار اس کے سرسری مطالعہ سے اندازہ کر سکا ہے تبلیغ احمدیت کے نہیں تبلیغ محمدیت کے نقطۂ نظر سے لکھی گئی ہے اور اختلافی مسئلوں کے چھیڑنے سے احتیاط برتی گئی ہے۔کاغذ ، جلد ، چھپائی وغیرہ ظاہر لوازم بھی پسندیدہ ہیں۔۱۸۳ ڈھا کہ میں جلسہ سیرت النبی ۷ ستمبر ۱۹۵۸ء کو جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام ڈھا کہ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شاندار جلسہ منعقد ہوا۔صدر جلسہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد ابراہیم صاحب تھے۔نامور غیر مسلم مقررین نے اپنی تقاریر میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پُر خلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ڈاکٹر گورند چند رادیو پروفیسر ڈھا کہ یونیورسٹی نے فرمایا کہ اسلام کے معنی امن کے ہیں اور آج کل تمام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ امن ہی ہے۔موجودہ معاشرہ کی سب سے بڑی خرابی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور افلاس ہے جس کا واحد حل نماز اور زکوۃ سے متعلق اسلامی تعلیم ہے۔جناب اجیت کمار گوہا پروفیسر جگن ناتھ کالج ڈھا کہ نے فرمایا کہ یہ پیغمبر اسلام ہی تھے جنہوں نے ایک ایسا مذہب پیش کیا جو انسانی زندگی کی صحیح حدود کو تسلیم کرتا ہے اور پیشوایان مذاہب کو قابل احترام تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے۔مولوی سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ احمدیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے عشق و محبت پر روشنی ڈالی۔اور آنحضرت کے ارفع مقام اور مثالی کارناموں کی نہایت خوش اسلوبی سے وضاحت کی۔ڈھاکہ کے نامور مسلمان لیڈر جناب غلام قادر صاحب ایم۔پی۔اے نے اس حقیقت پر زور دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل متحدہ انسانیت کا عالمی تصور پیش فرمایا تھا۔جلسہ میں ہر طبقہ و مسلک کے معززین بھاری تعداد میں شامل ہوئے۔۱۸۴ حضرت مرزا شریف احمد صاحب ایڈیشنل ناظر مباہلہ سے متعلق ضروری ہدایات اصلاح و ارشاد کے قلم سے الفضل ۲ /نومبر ۱۹۵۸ء کے صفحہ ۶ پر حسب ذیل اعلان سپر دا شاعت ہوا: -