تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 261 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 261

تاریخ احمدیت 261 جلد ۲۰ اور ہدایات جاری فرما دیتے۔جس سے امام عالی مقام کی اولوالعزمی اور بنی نوع انسان خصوصاً جماعت سے محبت و شفقت کا پتہ چلتا ہے۔ڈاکٹر خان کا حادثہ قتل اور جماعت احمدیہ کی طرف سے تعزیت و رمئی ۱۹۵۸ء کو مغربی پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور سرحدی لیڈر عبد الغفار خاں کے بھائی ڈاکٹر خاں صاحب لاہور میں چھرا گھونپ کر ہلاک کر دئیے گئے۔اس المناک سانحہ پر اخبار الفضل ربوہ نے ایک خصوصی اداریہ میں لکھا کہ : - ڈاکٹر خانصاحب کا بے دردانہ قتل فی الواقعہ ایک نہایت ہی سخت قومی سانحہ ہے جس کے لئے جتنا بھی افسوس کیا جائے تھوڑا ہے۔آپ نہایت نیک دل انسان تھے۔مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔نہایت سادہ طبع اور ہر قسم کے تکلف سے بری تھے۔ملنسار تھے اور آپ کی نظر میں چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں تھی اور نہ آپ کے دل میں کسی قسم کا تعصب ہی راہ پاتا تھا۔کوئی ہو کہیں ہو آپ ہر وقت سب سے مل لیتے تھے۔جہاں تک قومی خدمت کا تعلق ہے پاکستان بننے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ اس میں بھی کسی سے کم نہیں رہے۔آپ نے چند ہی دنوں میں ملک وقوم کے دل میں اپنا اعتماد پیدا کر لیا تھا۔آپ کے سیاسی خیالات سے خواہ کوئی کتنا ہی اختلاف رکھتا ہو مگر آپ کا بڑے سے بڑا سیاسی حریف بھی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ قومی خدمت میں مخلص نہیں تھے۔سچی بات تو یہ ہے کہ آپ نے ایسے وقت میں سہارا دیا جب ملک کی سیاسی کشتی سخت طوفانوں میں گھری ہوئی تھی اور باوجود معمر ہونے کے آپ نے کام سے کبھی دل نہیں چرایا تھا۔اور نہ آپ نے مخالفانہ تنقید کی کبھی پرواہ کی ہم اس فعل شنیع کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزم یا ملزمان کو جو بھی تحقیقات سے ثابت ہوں ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ اس قسم کا واقعہ اس سرزمین میں ظہور پذیر نہ ہونے پائے۔۱۸۰ 66 اس اداریہ کے علاوہ ناظر صاحب امور خارجہ صدرانجمن احمد یہ پاکستان نے محترم ڈاکٹر خان صاحب کے درد ناک حادثہ قتل پر جماعت احمدیہ کی طرف سے گہرے رنج و الم اور دلی