تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 10 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 10

تاریخ احمدیت 10 لگ جائے تو پھر پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے اور اگر ہم ایک واقف زندگی کا ماہوار خرچ پچاس روپیہ رکھیں تو ایک ہزار مراکز قائم کئے جا سکتے ہیں اور اس طرح ہم پشاور سے کراچی تک رشد و اصلاح کا جال پھیلا سکتے ہیں۔بلکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیرا کرنا ہے تو اس کے لئے ہمیں ایک کروڑ روپیہ سالانہ سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے۔اگر ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ آمد ہو تو بارہ لاکھ پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے۔اگر بارہ لاکھ روپیہ بھی ماہوار آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک واقف زندگی کا پچاس روپیہ ماہوار خرچ مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے ۲۴ ہزار نئی طرز کے واقف زندگی بن جاتے ہیں اور ۲۴۰۰۰ واقف زندگی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے اندر پھیل جاتے ہیں۔کیونکہ ہم نے دس دس میل پر ایک ایک آدمی رکھنا ہے۔اور گوا بھی تو اتنی رقم جمع نہیں ہوسکتی لیکن اگر اتنی رقم جمع ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے چوبیس ہزار آدمی رکھے جا سکتے ہیں ہاں اگر یہ واقف زندگی ہمت کریں اور خوب کوشش کر کے جماعت بڑھانی شروع کر دیں تو ممکن ہے کہ اگلے سال ہی یہ صورت پیدا ہو جائے۔اب تک جو آمد ہوئی ہے وہ ایسی نہیں کہ اس پر زیادہ تعداد میں نوجوان رکھے جا سکیں لیکن جب روپیہ زیادہ زیادہ آنا شروع ہو گیا اور نوجوان بھی زیادہ تعداد میں آگئے اور انہوں نے ہمت کے ساتھ جماعت کو بڑھانے کی کوشش کی تو جماعت کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ سکیم کیسی مبارک اور پھیلنے والی ہے۔اس سکیم میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے جہاں اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے چندہ لکھوایا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کراچی کے پاس ٹھٹھہ میں میری زمین ہے۔اس میں سے میں اس سکیم کے ماتحت دس ایکڑ زمین وقف کرتا ہوں۔دس ایکڑ میں خود انشاء اللہ ضلع تھر پارکر یا حیدر آباد کے ضلع میں وقف کروں گا اور ابھی تو اور بہت سے احمدی زمیندار ہیں جو اس غرض کے لئے زمین وقف کر سکتے ہیں پھر ایک ایک دو دو ایکڑ دے کر کئی آدمی مل کر اس میں حصہ لے سکتے ہیں بہر حال چوہدری صاحب کی زمین اور میری وقف شدہ زمین میں دو مرکز بن جائیں جلد ۲۰