تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 248
تاریخ احمدیت 248 جلد ۲۰ مسٹر عبد اللہ آرسکاٹ صاحب مسٹر عبداللہ آرسکاٹ صاحب نے ۱۹۳۵ء میں حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی اور عراق میں انہوں نے وصیت کی۔جسے حضرت مرزا برکت علی صاحب امیر جماعت عراق نے اپنے دستخطوں سے بھجواتے ہوئے ۳۱ جنوری ۱۹۳۹ء کو لکھا کہ یہ شخص غیروں کے سامنے احمدیت کی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔احمدیت کیلئے ہر تکلیف برداشت کرتا ہے۔پچھلے ہی دنوں ایک ملازمت سے اس لئے علیحدہ کیا گیا کہ یہ مسلم کیوں ہوا؟ لیکن اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور اس علیحدگی کو خوشی سے قبول کیا ؟ مسٹر عبداللہ آرسکاٹ صاحب ۱۹۵۸ء میں اربیل کے مقام پر فوت ہوئے ان کا بیٹا لبنان میں ڈاکٹر ہے۔اس سال مبلغ امریکہ مکرم سید جواد علی صاحب کی اہلیہ محترمہ سیدہ طینت جواد علی صاحب نے ۱۶ مارچ ۱۹۵۸ء کو پٹسبرگ کے ہسپتال میں انتقال کیا۔مرحومہ اکتوبر ۱۹۵۷ء میں امریکہ۔۱۳۹ تشریف لے گئی تھیں۔چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ایم اے انچارج احمد یہ مشن امریکہ نے ان کی ناگہانی وفات پر ایک نوٹ میں لکھا: - عزیزہ سیدہ طینت مرحومہ کے نانا حضرت خصیلت علی شاہ صاحب آف سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی رفقاء میں سے تھے۔۱۹۲۹ء میں عزیزہ مرحومہ کی پیدائش کے وقت آپ کے والد مرحوم جڑانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں سکونت رکھتے تھے۔مرحومہ اپنے بہن بھائیوں میں نی شگفتگی طبع ، سعادت اور نیکی کی وجہ سے بچپن سے ہی سب سے چھوٹی اور اپنی سارے خاندان میں ہر دلعزیز تھیں۔خاکسار کو چونکہ بچپن سے ہی گہراتعلق رہا ہے اس لئے سیدہ طینت مرحومہ کو ان کے اوائل عمر سے جانتا تھا۔اور ان کی طبیعت کی سادگی اور خلوص سے بہت متاثر تھا۔آپ کے والد آپ کی پیدائش کے چند سال بعد ہی سیالکوٹ واپس آکر مستقل طور پر مقیم ہو گئے تھے۔مرحومہ نے چھوٹی عمر سے ہی مقامی جماعت کی مساعی میں جوش اور انہاک کے ساتھ نمایاں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ ایک عرصہ تک سیالکوٹ شہر