تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 240
تاریخ احمدیت 240 جلد ۲۰ پر ظلم۔میں بھی تو ہوں اپنا نقصان اٹھا کر بھی صبر سے زندہ ہوں۔والد صاحب کے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔اس سے سارا واقعہ سن کر رقم واپس کی۔حضرت آخر میں خاکسار جماعت احمد یہ عالمگیر کے دوسرے اولوالعزم خلیفہ سید نا حضرت مصلح موعود جو سخت ذہین و فہیم اور دل کا حلیم تھا کے آخری دیدار کا واقعہ بیان کرتا ہے جو آج بھی قلب و ذہن پر مثل تحریر بر سنگ نقش ہے۔دسمبر ۱۹۶۲ ء ہے۔سیدنا امامنا لمبی تکلیف دہ بیماری سے گزر رہے ہیں اور ہر آن بستر پر لیے بے چینی اور اضطرابی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔قدرے افاقہ ہوتا ہے تو جماعت ہی کے بارے میں سوچ و فکر ، کسی قسم کی ملاقات کا سوال ہی نہیں۔خاکسار وکالت دیوان کے فیصلہ کے مطابق جامعہ احمدیہ سے فارغ کیا گیا ہے۔ربوہ سے لاہور آنے کا ارادہ ہے لیکن آخری بار پیارے وجود کے چہرہ مبارک کا دیدار کرنے کی شدید خواہش اور تڑپ ہے۔خاکسار ت میر داؤد احمد صاحب سے ذکر کرتا ہے کہ کسی طرح دیدار ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حضور انور کی بیماری کی کیفیت ایسی ہے کہ کوئی مل نہیں سکتا۔خاکسار نے عرض کی کہ اسی لئے تو آپ سے گزارش کی ہے۔فرماتے ہیں وعدہ نہیں ، کوشش کرتے ہیں۔ذرا طبیعت سنبھلے گی تو دیکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی دیدار کی اجازت ہوئی۔محترم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے اوپر بھجوایا۔جو نہی بندہ السلام علیکم عرض کر کے کمرہ میں داخل ہوا حضور انور کو بے چینی میں کروٹ بدلتے دیکھا۔میری طرف توجہ فرما کر پوچھا کس کے بیٹے ہو۔بندہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔عرض کیا میاں محمد مغل عرف مغلا کا بیٹا ہوں۔دریافت فرمایا کیا حال ہے ان کا ؟ خاکسار نے عرض کیا وہ وفات پاچکے ہیں۔میرا یہ کہنا تھا کہ آپ شدید بے چین ہو گئے اور ایک بچے یا مریض کی طرح درد سے کراہتے ہوئے زیرلب بولنے لگے جو بندہ سمجھ نہ سکا۔حضور کی اس کیفیت پر دروازے پر موجود پہرے دار نے مجھے اشارہ سے فوراً کمرے سے نکل آنے کو کہا۔اور کہنے لگے کہ حضور انور کی پہلے ہی یہ کیفیت ہے تم نے کیا کہہ دیا۔خاکسار نے کہا کہ میں نے صرف ان کے دریافت کرنے پر اپنے والد صاحب کا نام بتایا ہے اور یہ کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔اللہ اللہ ایک عظیم انسان ، سراسر نور ہی نور اور جو صاحب شکوہ و عظمت و دولت تھا، نے آخر تکلیف دہ بیماری میں بھی اپنے ایک بدوی عاشق کو کیسے یاد رکھا۔۱۲۷-