تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 235
تاریخ احمدیت 235 جلد ۲۰ میں علم ہوا کہ مجھے داخلہ والد صاحب بزرگوار کے مرتبے کی وجہ سے ملا کیونکہ اس وقت کے اکثر بڑے بزرگ اور سلسلہ کے عہدیدار والد صاحب کو جانتے تھے۔اگر چہ میٹرک میں میری ہائی فرسٹ ڈویژن تھی تاہم والد صاحب کے علم و معرفت کے مقابلے میں ابھی طفل مکتب تھا جو گھٹنوں کے بل بھی نہ چل سکے۔تقدیر الہی سے بیمار ہوا۔ہر چند ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ( مرحوم ) اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد (خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ ) نے انتہائی نگہداشت و توجہ سے ایلو پیتھی و ہومیو پیتھی علاج فرمایا لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔آخر وکالت دیوان نے بورڈ بٹھا کر فیصلہ فرمایا کہ خاکسار بیماری کی وجہ سے آئندہ تعلیمی بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور اولیٰ جماعت سے فارغ کر دیا گیا۔حضرت سید میر داؤد احمد صاحب (مرحوم) نے مجھے بڑے پیار سے رخصت کرتے ہوئے فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ بشیر تمہارا وقف خدا تعالیٰ کے نزدیک منظور ہے لیکن سلسلہ کی اپنی مجبوریاں ہیں۔جامعہ احمدیہ میں اس ڈیڑھ دو سال کے عرصہ نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی۔خاکسار نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بعد میں ایف۔اے ، بی۔اے اور پھر حضرت میر داؤ د احمر صاحب کے مشورہ واعانت سے ملازمت کے دوران ہی بی۔ایڈ کر کے اپنے آپ کو پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں پیش کر دیا۔جس پر نصرت جہاں سکیم کے دفتر سے اطلاع ملی کہ ٹھیک ہے جب ضرورت پڑی بلا لیں گے۔آج ہم جو کچھ ہیں ، اپنے فقیر منش در ولیش باپ اور مہاجر ماں جن کا نام بھی ہاجرہ بی بی تھا کی درد بھری دعاؤں کے طفیل فضل الہی کی بارش کے نتیجہ میں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آسمان سے نازل ہوئی۔میری والدہ محترمہ بھی نہایت نیک اور دعا گو خاتون تھیں۔گاؤں کی بوڑھی چند ایک احمدی عورتیں ہمیں روتی ہوئی بتاتی تھیں کہ تمہاری والدہ مرحومہ درمشین کی نظمیں اسلام سے نہ بھا گو راہ ہدی یہی ہے اور حمد وثناء اسی کو جو ذات جاودانی، بہت پڑھتی تھیں۔سجدات میں غیر احمدی شریک برادری (چیاں) کی عورتوں کے ظلم و ستم سہتی ہوئی روتی اور بہت دعا کرتی تھیں۔یہ چچیاں اپنے صحن کا کوڑا کرکٹ تمہاری والدہ مرحومہ کے صحن میں پھینک دیتیں۔خاکسار کے بڑے بھائی منظور احمد صاحب انور مرحوم کے بیان کے مطابق والد صاحب کے تعلقات جن بڑے رفقاء سے تھے اور جن کی صحبت صالحہ سے فیضیاب ہوئے ان میں سے سرفہرست حضرت میر محمد الحق صاحب، حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت مولوی محمد صادق صاحب،