تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 234
تاریخ احمدیت 234 جلد ۲۰ گا۔گاڑیاں ( کاریں ) بھی مل جائیں گی۔خدا تعالیٰ سے دنیا مانگتے مجھے شرم آتی ہے۔میں تو تمہارے لئے دین مانگ رہا ہوں۔اسی طرح کچھ عرصہ کے لئے چندہ میں سے تخفیف کرانے کی منت کی جاتی تو فرماتے خدا تعالیٰ کیا کہے گا کہ واہ مغلے میرے پاس آنے کا وقت آیا تو چندہ روک دیا۔یہ ہرگز نہیں ہوگا۔وفات سے ایک آدھ سال قبل جبکہ میں ابھی مڈل بھی پاس نہ کر پایا تھا، آپ عارضی طور پر چیچو کی ملیاں ایک پاور ہیڈ ورکس پر ملازم تھے۔نہ جانے کیا خیال آیا، مجھے بلایا ( خاکسار لاہور پڑھتا تھا اور دو چار چھٹیاں ہونے پر شکار کرنے آپ کے پاس چلا جاتا تھا۔خلیل سے پرندوں کا شکار کرنا اور کنڈی سے مچھلیاں پکڑنا بڑا مشغلہ تھا)۔کہنے لگے بشیر ! میں تم سے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں۔میں نے کہا کیا ؟ فرمانے لگے کہ وعدہ کرو کہ میٹرک کے بعد زندگی وقف کرو گے۔میں نے لاعلمی کی وجہ سے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ۔۔۔کی تبلیغ کے لئے زندگی دے دینا۔میں غیر از جماعت مولوی حضرات کے کرتوت و اعمال بد دیکھتا، پڑھتا تھا۔چنانچہ اس تاثر سے مولوی سپن سے شدید نفرت تھی۔والد صاحب نے غالباً سمجھایا اور بندہ نے بادل ناخواستہ ہاں کر دی۔لاہور میں مڈل کے ورنیکلر امتحان میں میرے ہائی نمبر تھے۔ہیڈ ماسٹر نے میرے حالات جانتے ہوئے سٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اپنے والد صاحب کو بلا لاؤ۔میں میاں جی (والد صاحب کو ہم میاں جی کہتے تھے ) کو بلا لایا۔ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ بابا تمہارا بیٹا لائق ہے، تم اسے پڑھا نہیں سکتے۔یہ مجھے دے دو۔میری اولاد نہیں میں اسے اعلیٰ تعلیم دلاؤں گا۔والد صاحب نے میری طرف دیکھا، میں سر جھکائے کھڑا تھا۔میں نے سر کی ہلکی سی جنبش سے انکار کر دیا۔ہیڈ ماسٹر نے دیکھا تو کہنے لگا با با بچے سے کیا پوچھتے ہیں فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ بچے نے۔والد صاحب بڑی سادگی سے فرمانے لگے چبل کھاتے اپنے پڑھنا کہ میں۔‘ کہ اس بیوقوف نے پڑھنا ہے کہ میں نے۔بہر حال بحث تمحیص کے بعد بندہ نے سرٹیفکیٹ لے لیا اور ربوہ جماعت نہم میں داخلہ لے لیا۔رہائش گاؤں کے مکان میں رکھی جو والد صاحب کی ملکیت میں تھا۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ آپکا تھا۔اسی سال والد صاحب بیمار ہوئے۔دسمبر میں بڑے بھائی لطیف احمد شاد صاحب ان کو جلسہ سالانہ کے بعد کراچی بغرض علاج لے آئے لیکن آپ جلد ہی ۱۹۵۸ء میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔خاکسار نے میٹرک کیا۔احمدیت کے بارہ میں شعور قدرے بیدار ہو چکا تھا۔زندگی وقف کی۔وکالت دیوان نے منظوری دیتے ہوئے جامعہ احمدیہ میں داخل کروا دیا۔یہ تو مجھے بعد