تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 225
تاریخ احمدیت 225۔مسروقہ میں سے اس کا حصہ نکالتے ہیں۔مغلا ایسے ہی بادشا ہوں میں سے ایک تھے جو بعد میں احمدی ہو گئے اور چوری سے انہوں نے تو بہ کر لی۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے چور مال مسروقہ کا پانچواں یا دسواں یا بارہواں حصہ میرے گھر پر لاتے تھے اور وہ سنایا کرتے تھے کہ چوروں کے اندر ایسا نظام موجود ہے کہ بعض چوری کی ہوئی چیزوں کو دو دو تین تین سومیل تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ہر ایک جگہ کا اڈہ مقرر ہوتا ہے اور پہلے سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسروقہ چیز مشرق کے کسی علاقہ کی طرف نکالنی ہو تو اتنے میل پر فلاں آدمی کو دے آؤ۔اور اگر مغرب کو مال نکالنا ہے تو چھ سات میل پر ایک دوسرے آدمی کو دے آؤ۔اسی طرح شمال اور جنوب میں ایک ایک آدمی مقرر ہوتا ہے۔چور مخصوص حالات کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مال فلاں طرف نکالا جائے۔مثلاً اگر وہ دیکھتا ہے کہ جس کے ہاں چوری کی گئی ہے اس کی رشتہ داریاں مشرق میں ہیں تو وہ مسروقہ مال مغرب کی طرف بھیج دے گا۔اور اگر رشتہ داریاں مغرب میں ہیں تو وہ اسے مشرق کی طرف بھیج دیتا ہے اسی طرح اگر اس کی رشتہ داریاں شمال کی طرف ہیں تو وہ مال جنوب کی طرف بھیج دے گا۔اگر رشتہ داریاں جنوب کی طرف ہیں تو وہ مال شمال کی طرف بھیج دے گا۔مثلاً بیکانیر گورداسپور سے کتنی دور ہے لیکن ہمارے علاقہ کا مسروقہ مال بریکا نیر جاتا تھا۔پھر چوروں میں ایک قسم کا نظام ہوتا ہے مثلاً ایک شخص اگر کوئی جانور چوری کرتا ہے تو وہ حالات کے مطابق اسے دس بارہ میل پر کسی مقررہ اڈے پر پہنچا دے گا اور اسے مثلاً دسواں حصہ قیمت کا مل جائے گا۔پھر دوسرا آدمی اسے دوسرے اڈے تک پہنچا دے گا اور اسے دسواں حصہ قیمت کامل جائے گا۔اس طرح وہ ایک عام اندازہ لگا کر قیمت کے حصے کرتے جائیں گے اور آخری وقت اسے بیچ کر اپنا حصہ پورا کرے گا۔مغلا جب احمدی ہوئے تو انہوں نے قومی عادت یعنی چوری کو ترک کر دیا۔اور جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دیا۔کیونکہ یہ ابتدائی جرم ہوتا ہے ان کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔کیونکہ وہ سمجھتے جلد ۲۰