تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 222
تاریخ احمدیت 222 جلد ۲۰ کی بناء پر حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا جو ایک سال کے اندر مکمل طور پر پڑھ لیا۔حضرت چوہدری صاحب کا ڈیرہ لوگوں کے راستہ پر تھا اس لئے آپ ڈیرہ پر حقہ تیار رکھتے اور آنے جانے والے مسافرستانے کے لئے اکثر آجاتے۔آپ ان کو بتاتے کہ دیکھو امام مہدی آگیا ہے قادیان جا کر دیکھ لو۔اس طرح دعوت الی اللہ کا کام ہوتا رہتا۔آپ مالی قربانی میں بھی حصہ لیتے رہے۔لمبا عرصہ خدمت دین کے کاموں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔مکرم چوہدری مرزا خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہمارا ایک مقدمہ عدالت میں چل رہا تھا جس میں حضرت چوہدری بڑھے خاں صاحب کے تینوں بیٹوں اور چاروں پوتوں کو قید ہونے کی سزا کا خدشہ تھا اگر چہ یہ سب جھوٹے مقدمے میں ملوث تھے۔چوہدری مرزا خاں صاحب کہتے ہیں میں پیشی سے ہو کر آیا ایک سرکاری کارندے نے مجھے ترغیب دی کہ پانچ سو روپے رشوت دیں تو سب کی جان چھڑوا دیتا ہوں۔میں نے کہا کہ کل تک لے کر آجاؤں گا۔میں نے والد صاحب سے ساری حقیقت بیان کی آپ نے فوری طور پر پانچ سو روپے کا بندو بست کر لیا اور صبح میرے ساتھ چل پڑے۔راستے میں دعوت الی اللہ کرتے ہوئے نماز ظہر کے وقت پھالیہ پہنچ گئے۔ظہر کی نماز ادا کی۔والد صاحب نے بہت لمبا سجدہ کیا جس سے میں پریشان ہو گیا میں نے آواز دے کر کہا کہ اب تو دفتر بھی بند ہونے والے ہیں۔تب سجدہ سے سر اٹھایا۔نماز کے بعد سیدھے ڈاکخانے چلے گئے۔میں پیچھے پیچھے تھا۔ڈاکخانے جاتے ہی وہ پانچ سو روپیہ قادیان منی آرڈر کر دیا اور پھر حج صاحب کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئے میں نے کہا کہ اب کیا لینا ہے وہ رقم تو آپ قادیان بھجوا چکے ہیں۔مجھے بڑے تحمل سے فرمایا میاں اس رقم کی خدا تعالیٰ کے دین کو ضرورت تھی جو میں نے بھجوا کر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے۔اب خدا تعالیٰ کو دیے ہوئے کا نظارہ دیکھ لینا۔آپ آگے آگے جا رہے تھے اور میں ان کے پیچھے تھا۔عدالت ایک بلند جگہ پر تھی۔سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا تھا۔( یہ کوٹھی آج بھی پھالیہ میں موجود ہے اور حج کی رہائش گاہ ہے ) ہم سیڑھیاں چڑھنے لگے آگے آگے والد صاحب اور میں پیچھے تھا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت نوجوان ٹوپی پہنے ہوئے چچا جی چچا جی کہتا نیچے دوڑا آرہا ہے اور والد صاحب کو گلے لگا لیا اور کہتا ہے کہ آپ کہاں۔والد صاحب نے کہا کہ میرے بچوں کو بے گناہ سزا دے رہے ہیں۔میں اسے حقیقت حال بتانا چاہتا ہوں اس نے کہا چچا جی حج تبدیل ہو گیا ہے اور میں اس کی جگہ آ گیا ہوں۔چنانچہ بعد میں نئے جج صاحب نے دوسری تاریخ پر فریقین کی صلح کروا دی۔اس