تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 212 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 212

تاریخ احمدیت 212 جلد ۲۰ کہ اس مکان کو نگلے۔وہ مکان آج تک محفوظ ہے۔اور جب ہم اکٹھے اس میں بیٹھتے تو اس واقعہ کا ذکر آ جاتا۔ایک دفعہ آپ کو گفتگو کے لئے بلایا گیا۔خیال تھا کہ مباحثہ ہوگا۔ادھر مولوی صاحب کے ران کے نچلے حصے میں ایک بہت بڑا پھوڑا نکلا ہوا تھا اور اس قدر تکلیف تھی کہ اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔روانگی کی صبح تک یہی حال تھا۔آخر روانگی سے قبل انہوں نے ایک استرا منگوایا۔اور استرے سے اس کو خود ہی کاٹ دیا۔اور اوپر پٹی باندھ کر روانہ ہو گئے۔ہر مباحثہ اور بڑے پیمانہ پر گفتگو سے قبل جب گھر سے روانہ ہوتے تو آپ کی عادت تھی کہ علیحدہ جا کر دعا کرتے۔ایک دفعہ میں نے پوچھا کہ کیا دعا کرتے ہیں۔کہنے لگے دعا کرتا ہوں کہ اے خدا میں تو نالائق ہوں دیکھنا! میری نالائقی کی وجہ سے تمہارا مسیح موعود نالائق نہ ٹھہرے۔میری مددفرمانا اور روح القدس کو مجھ پر نازل کرنا۔اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی کامیابی بخشی اور گو آخر تک آپ کی ملایو زبان درست نہیں ہوئی۔لیکن آپ کی بات کا اثر بہت ہوتا تھا۔جاوا میں مولانا صاحب کے زمانہ میں ہی ” سینار اسلام مجلّہ شائع ہونا شروع ہوا۔اور انہی کے زمانہ میں مرکزی جماعتیں جا کرتا ، بوگور ، بنڈ ونگ، گاروت، سینگا پرنا، تاسیک ملایا وغیرہ قائم ہیں۔جو ہزاروں افراد پر مشتمل ہیں۔اور آج ان میں سے اکثر کی آنکھیں مولانا صاحب کی وفات کی وجہ سے پرنم ہیں۔اولاد ۱ - عطاء اللہ صاحب ایم اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ ۲ - لطف المنان صاحب۔پنجاب ٹرانسپورٹ۔بیٹی شیخ شمس الدین صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ مڈھ رانجھا ضلع سرگودھا ولادت ۱۸۸۳ء بیعت دسمبر ۱۹۰۱ء۔وفات ۹ ستمبر ۱۹۵۸ء) فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے بیعت کی تو بیت مبارک کی وسعت بس اتنی تھی کہ پانچ چھ آدمی نماز پڑھ سکتے تھے۔ہم بٹالہ میں مولوی محمد حسین صاحب کے ہاں مہمان ٹھہرے اور پا پیادہ قادیان گئے۔شام کے وقت کا کھانا بیت مبارک کی چھت پر کھایا جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور