تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 211 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 211

تاریخ احمدیت 211 جلد ۲۰ سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔مولانا صاحب کے تعلقات ہر قسم کے لوگوں سے تھے۔مسلمان کیا ہندو اور عیسائی کیا اور دہر یہ کیا سب کو دوست بنا رکھا تھا۔ایک دفعہ ایک بد نام سا شخص بازار میں آپ کے ساتھ ہو لیا اور مولانا صاحب سے دوستانہ گفتگو کرتا رہا۔وہ نوجوان تھا اور تھا بھی نا تجربہ کار۔اس آدمی کے چلے جانے کے بعد ہم نے مولانا صاحب سے کہا کہ آپ ایک پاک سلسلہ کے ممبر ہیں اور پھر مبلغ لیکن آپ ایک ایسے بد نام آدمی سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور پھر بازار میں اس کے ساتھ چلتے پھرتے ہیں کہنے لگے یعنی تمہیں کیا علم یہ شخص تو میری بڑی مدد کرتا ہے۔پھر مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ مبلغ ایک ڈاکٹر کی حیثیت رکھتا ہے اسے زیادہ تر بیماروں سے واسطہ پڑتا ہے۔جو بھی اس کے پاس آئے اُسے اس کا علاج کرنا پڑتا ہے۔جب تک مبلغ ایسا نہ ہو وہ مخلوق خدا سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اس نصیحت کا بھی مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرا نظریہ بدل گیا۔اور اس نظریہ کی تبدیلی میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئی۔چونکہ سلسلہ عالیہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے اس لئے نیک نیت کارکنوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید بھی ہوتی ہے۔چنانچہ پاڈنگ کے ایک درزی دوست نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ مولانا رحمت علی صاحب اس کی دکان پر ایک عیسائی سے تبادلہ خیالات کر رہے تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔اور اس علاقہ میں جب ایسی بارش شروع ہو تو گھنٹوں برستی چلی جاتی ہے۔پادری نے للکار کر کہا کہ ”اگر تمہارا مذہب اسلام سچا ہے اور عیسائیت کچی نہیں تو ذرا اپنے خدا سے کہو کہ اس موسلا دھار بارش کو بند کر دے۔“ اس کا یہ مطالبہ کرنا تھا کہ مولانا صاحب نے کہا کہ ”اے بارش خدا کے حکم سے تھم جا۔اور اپنے زندہ اور بچے خدا کا ثبوت دے۔راوی کہتا ہے کہ چند منٹ میں ہی وہ بارش ختم ہو گئی۔مکرم مولوی صاحب پاؤنگ میں ایک مخلص دوست داؤد کے گھر رہتے جو پاسر مسکین میں واقع تھا۔ان علاقوں کے مکانات عموماً لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔اس محلہ میں اتفاقا آگ لگ گئی اور تمام مکانات کو راکھ کرتی ہوئی مولانا صاحب کے مکان کے قریب تک پہنچ گئی اور اس کے شعلے مولانا صاحب کے مکان کے چھجے تک پہنچ رہے تھے۔(چنانچہ میں نے شعلوں کے سیاہ نشان خود دیکھے ہیں) لیکن مولانا صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ مکان مسیح موعود کے ایک مرید کا مسکن ہے۔آگ اسے نہیں چھوئے گی۔لوگ آگ کو بھی دیکھ رہے تھے اور مولانا صاحب کی بات بھی یاد کر رہے تھے کہ اچانک موسلا دھار بارش آئی اور آگ کو ٹھنڈا کر کے گزرگئی اور اُسے اجازت نہ ہوئی