تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 207
تاریخ احمدیت 207 جلد ۲۰ کامیاب دورہ کیا۔اپریل ۱۹۵۳ء میں آپ مشرقی پاکستان کے رئیس التبلیغ مقرر ہوئے۔اسی دوران آپ خدمات دینیہ بجالاتے ہوئے بیمار ہو گئے اور بیماری کی حالت میں ہی یکم دسمبر ۱۹۵۵ء کو ڈھاکہ سے لا ہور تشریف لے آئے ارمیو ہسپتال لاہور میں داخل کر دیئے گئے۔۲۴ /اگست ۱۹۵۸ء کو آپ لاہور سے ربوہ آگئے جہاں ۳۱ راگست ۱۹۵۸ء کو مولائے حقیقی سے جاملے۔اناللہ وانا الیہ راجعون حضرت مولوی صاحب کو انڈونیشین زبان میں بڑا عبور حاصل تھا۔آپ اس زبان میں تمہیں سے زیادہ کتابوں کے مؤلف تھے۔خالد احمد بیت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے آپ کی وفات پر لکھا: - شہید ملت آسمانی بادشاہت کا ایک اور درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا۔مولانا رحمت علی صاحب ایک لمبی علالت کے بعد کل نماز فجر کے وقت ۶۵ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ مدرسہ احمدیہ کے (جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کیا تھا ) اولین ثمرات میں سے تھے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہو کر مولوی فاضل اور او۔ٹی کا امتحان پاس کیا پھر ہائی سکول میں عربک ٹیچر رہے۔۱۹۲۵ء میں جب انڈونیشیا میں مبلغ بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور آپ کو انڈونیشیا بھیجا گیا آپ نے نہایت محنت اور جانفشانی سے فریضہ تبلیغ سرانجام دیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے کلام میں برکت عطا فرمائی آپ نے عین شباب میں اپنی بیوی اور بچوں سے علیحدگی اختیار کر کے سالہا سال تک وہاں کام کیا۔اور آپ کے ذریعہ انڈونیشیا میں متعدد جگہ پر احمدی جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ نہایت سادہ طبیعت تھے۔اور ہر چھوٹے بڑے سے دوستانہ طریق پر ملتے۔پہلے آپ اکیلے انڈونیشیا میں کام کرتے رہے پھر اور مبلغ بھیجے گئے تو آپ کو حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ نے رئیس التبلیغ انڈونیشیا مقرر فرمایا۔انڈونیشیا سے واپس آکر آپ ایسٹ بنگال میں بطور رئیس التبلیغ بھیجے گئے۔وہیں بیمار ہو گئے وہاں سے آکر پھر بیمار ہی رہے۔۔۔آپ نے جس صبر اور استقلال کا نمونہ دکھایا اور جس رنگ میں سلسلہ کے لئے بے لوث اور قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں وہ قابلِ رشک ہیں اور آپ کا نام تاریخ سلسلہ احمدیہ میں ایک روشن ستارہ کی مانند درخشاں رہے گا اور جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام نشاں 1+2