تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 206
تاریخ احمدیت 206 جلد ۲۰ خان صاحب برکت علی صاحب نے ۸۶ سال کی عمر میں وفات پائی ہے۔مگر ہمت اور جذبہ خدمت کا یہ عالم تھا کہ غالباً دو سال ہوئے انہوں نے قرآنی علوم کے فہم کے متعلق ایک رسالہ تصنیف کر کے شائع کیا تھا جس میں بعض مضامین واقعی عمدہ اور اچھوتے تھے اس طرح ان کی اکثر روایات بھی غالباً چھپ چکی ہیں۔خاں صاحب مرحوم نے اپنے پیچھے کوئی اولا د نہیں چھوڑی ان کی اہلیہ جو وہ بھی خاوند کی طرح بہت نیک اور مخلص تھیں ان کی زندگی میں ہی چند سال ہوئے فوت ہو گئی تھیں۔اور ربوہ کے مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔مرحومہ کو حضرت اماں جان کے ساتھ بہت عقیدت تھی اللہ تعالیٰ دونوں کو غریق رحمت کرے اور اپنے افضال سے نوازے اور جماعت میں ان کے امثال پیدا کر کے ان کے نیک عمل کو جاری رکھے۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۷/۸/۵۸ حضرت مولوی رحمت علی صاحب مجاہد انڈونیشیا 1+ 1 ولادت ۱۸۹۳ ء وفات ۳۱ را گست ۱۹۵۸ء حضرت مولوی رحمت علی صاحب حضرت مسیح موعود کے قدیم اور مخلص رفیق اور موصی نمبرا حضرت بابا حسن محمد صاحب کے صاحبزادے تھے۔آپ مدرسہ احمدیہ کے اولین فارغ التحصیل طلبہ میں سے تھے۔عربی اور دینیات کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ۱۹۱۹ء میں ایک خادم دین کی حیثیت سے عملی زندگی میں قدم رکھا۔آپ پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں عربی اور دینیات کے استاد مقرر ہوئے بعد ازاں آپ کا تبادلہ نظارت دعوۃ و تبلیغ میں ہو گیا۔۱۷ / اگست ۱۹۲۵ء کی صبح کو حضرت مصلح موعودؓ کے حکم سے آپ کو جزائر سماٹرا اور جاوا میں بغرض تبلیغ بھجوایا گیا جہاں آپ نے قریباً ۲۶ سال تک اپنے بیوی بچوں سے جدا رہ کر پیغام حق پہنچانے کا فریضہ حد درجہ فدائیت اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا کہ درجنوں نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ داخل احمدیت ہوئے ہر چند کہ آپ اس عرصہ کے دوران تین مرتبہ انڈونیشیا سے واپس مرکز میں بھی تشریف لائے لیکن ہر بار تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد پھر واپس تشریف لے جاتے رہے۔اور اس طرح آپ کو خدمت دین کی خاطر بہت لمبا عرصہ اپنے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سے جدا رہنا پڑا۔آخری بار آپ ۱۴ / اکتوبر ۱۹۴۰ء کو انڈونیشا تشریف لے گئے اور دس سال کے بعد ۳۰ را پریل ۱۹۵۰ء کو واپس تشریف لائے۔واپسی کے بعد آپ نے بیرونی ممالک سے آنے والے مبلغین احمدیت کے ایک وفد کے ہمراہ رئیس وفد کی حیثیت سے مغربی پاکستان کا