تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 205
تاریخ احمدیت 205 جلد ۲۰ فرائض بجالانے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت خانصاحب نہایت متقی ، مخیر ، سادہ مزاج ، عابد و زاہد اور کم گو بزرگ تھے۔ہمیشہ تقویٰ کی باریک راہوں پر نظر رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اگر میں دفتر سے ذاتی استعمال کے لئے ایک پن بھی لیتا ہوں تو وہ بھی اپنے گھر سے لا کر واپس دفتر میں رکھ دیتا ہوں۔مختلف ذرائع سے غرباء کی امداد کرنا ان کا مستقل شعار تھا۔حضرت مصلح موعودؓ کی ذات بابرکات کے ساتھ خلافت اولی کے زمانہ سے ہی والہانہ عقیدت و اخلاص رکھتے تھے۔اور حضور کی ہر تحریک پر لبیک کہتے تھے۔آپ کو موصی ہونے کا شرف حاصل تھا اور تحریک جدید کی پانچبزاری فوج میں بھی شامل تھے۔انہوں نے اپنا مکان واقع دارالرحمت وسطی ربوہ اغراض سلسلہ کے لئے اپنی زندگی میں ہی صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے پاس ہبہ کر دیا تھا۔اس سے پیشتر آپ ایک ٹرسٹ چھ ہزار روپیہ کا اپنی مرحومہ بی بی محترمہ عزیز بیگم صاحبہ کی طرف سے بحق صدرانجمن احمد یہ قائم کر چکے تھے جس کا نفع ان کی خواہش کے مطابق صدقہ جاریہ کے طور پر صیغہ نشر و اشاعت میں دینی کاموں پر خرچ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو قلمی اور علمی خدمات کی بھی توفیق بخشی۔چنانچہ آپ کے قلم سے مندرجہ ذیل رسالے اشاعت پذیر ہوئے۔کیا اسلام بذریعہ شمشیر پھیلا، ضرورت نبی ، گوشت خوری، قدامت روح و مادہ ، انتخاب خلافت ، اصول قرآن فہمی۔ان سب رسائل کو جماعت میں سند قبولیت عطا ہوئی اور احمد یہ پریس نے ان پر تعریفی نوٹ لکھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا : - خان صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق تھے اور بہت نیک اور مخلص اور سادہ مزاج بزرگ تھے۔ان کی بیعت ۱۹۰۰ ء یا ۱۹۰۱ء کی ہے۔ان کو دو زمانوں میں سلسلہ کی خاص خدمت کا موقع میسر آیا۔اولاً جماعت احمد یہ شملہ کے صدر اور امیر کی حیثیت میں جبکہ انہوں نے شملہ کی جماعت کو غیر معمولی حسن تدبیر کے ساتھ سنبھالا اور ۱۹۱۴ء کے فتنہ خلافت کے ایام میں خصوصیت کے ساتھ قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور جماعت کے کثیر حصہ کو لغزش سے بچا لیا۔شملہ کی جماعت میں ان کی صدارت اور امارت کا زمانہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بڑا امتیاز رکھتا ہے۔اس کے بعد جب وہ پینشن پا کر قادیان تشریف لائے تو مرکز میں لمبے عرصہ تک جائنٹ ناظر بیت المال کے عہدہ پر بہت مخلصانہ خدمات سرانجام دیں۔شملہ میں تنظیم اور با قاعدگی اور حسن تدبیر کی خوبیاں ان کے کام کی طرۂ امتیاز تھیں۔خانصاحب مرحوم خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے حقیقی ماموں تھے۔۹۸