تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 203
تاریخ احمدیت 203 جلد ۲۰ کر کے غرباء میں تقسیم کر دیا۔کچھ روپیہ اپنے غریب رشتہ داروں کو دے دیا اور سات سو روپیہ حضرت خلیفہ اسیح اول اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو غرباء میں تقسیم کے لئے بھیج دیا اور اس طرح وہ تمام روپیہ حضور علیہ السلام کے فتویٰ کے مطابق تقسیم کر دیا۔" ۹۱ حضرت مسیح موعود نے ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ ء کو رسالہ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) جاری کرنے کا اعلان فرمایا۔اس غرض کے لئے ایک ادارہ انجمن اشاعت اسلام کے نام سے قائم ہوا جن کا ابتدائی سرمایہ دس ہزار روپیہ قرار پایا جس کی فراہمی کے لئے دس دس روپے کے ایک ہزار حصے مقرر کئے گئے۔حضرت خانصاحب منشی برکت علی صاحب نے اس کے حصے بھی خریدے کچھ عرصہ بعد حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ اگر خدا تعالیٰ دوستوں کو حوصلہ اور ہمت دے تو وہ نفع کا خیال چھوڑ دیں اور یہ رقوم بطور امداد سلسلہ احمدیہ کو دے دیں۔چنانچہ جہاں دوسرے بزرگوں نے یہ روپیہ سلسلہ کو دے دیا وہاں آپ نے بھی پوری رقم سلسلہ کے پاس رہنے دی۔مارچ ۱۹۰۳ء میں مینارہ امسیح کی بنیاد رکھی گئی اس کی تعمیر میں ایک ایک سو روپیہ دینے والے مخلصین میں آپ دونوں میاں بیوی بھی تھے۔آپ کی رفیقہ حیات عزیزہ بیگم صاحبہ آپ کی طرح نہایت پارسا اور فرشتہ خصلت تھیں اور عمر بھر دینی کاموں میں آپ کی مد و معاون رہیں۔جون ۱۹۰۷ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بد کا ایک کارڈ آپ کو ملا کہ 66 صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور دو تین اور احمد یہ شملہ آرہے ہیں۔صاحبزادہ صاحب کی طبیعت ناساز ہے۔ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہے کہ وہ کچھ وقت شملہ رہ آئیں۔آپ ان کی رہائش اور آسائش کا انتظام کر دیں۔کارڈ کے ایک کونے پر حضرت اقدس نے اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا کہ:- ” میری طرف سے مخلص دوستوں کو تاکید ہے کہ مکان وغیرہ آرام 66 و اسباب میرے لڑکے محمود احمد کے لئے میسر کر دیں۔مرزا غلام احمد۔“ آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے متعدد خطوط لکھے۔ایک بار حضور ۹۲ 66 نے آپ کی ایک چٹھی پر رقم فرمایا کہ " السلام علیکم۔اسی طرح کبھی کبھی یاد دلاتے رہیں۔۱۳ مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفہ مسیح الاول کے وصال کی خبر بذریعہ تار شملہ میں پہنچی تو آپ نے احباب شملہ کو تحریک فرمائی کہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ جماعت میں اختلاف ہے اس صورت میں یہ ناممکن ہے کہ انتخاب خلیفہ کے متعلق اتفاق رائے سے فیصلہ ہو۔پس ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نمونہ پر قدم مارتے ہوئے اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ جدھر کثرت رائے