تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 4
تاریخ احمدیت 4 پر کام کرنے کا موقعہ ہے۔جیسا کہ دیو بند کے قیام کے زمانہ میں ظاہری آبادی تو بہت تھی لیکن روحانی آبادی کم ہو گئی تھی۔روحانی آبادی کی کمی کی وجہ سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے دیکھ لیا تھا کہ یہاں اب روحانی نسل جاری کرنی چاہئے تا کہ یہ علاقہ اسلام اور روحانیت کے نور سے منور ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے بڑا کام کیا۔جیسے ان کے پیر حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے بڑا کام کیا تھا اور جیسے ان کے ساتھی حضرت اسمعیل صاحب شہید کے بزرگ اعلیٰ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی نے بڑا کام کیا تھا۔یہ سارے کے سارے لوگ اپنے زمانہ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔در حقیقت ہر زمانہ کا فرستادہ اور خدا تعالیٰ کا مقرب بندہ اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے۔(باقی انبیاء اپنے اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے ) سید احمد صاحب سرہندی اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے اور حضرت سید احمد صاحب بریلوئی اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے۔پھر دیو بند کے جو بزرگ تھے وہ اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ تھے۔انہوں نے اپنے پیچھے ایک نیک ذکر دنیا میں چھوڑا ہے۔ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اسے یاد رکھنا چاہئے اور اس کی نقل کرنی چاہئے۔سو آج بھی زمانہ ہے کہ ہمارے وہ نوجوان جن میں اس قربانی کا مادہ ہو کہ وہ اپنے گھر بار سے علیحدہ رہ سکیں۔بے وطنی میں ایک نیا وطن بنا ئیں اور پھر آہستہ آہستہ اس کے ذریعہ سے تمام علاقہ میں نور ( دینِ حق ) اور نور ایمان پھیلائیں اپنے آپ کو اس غرض کے لئے وقف کریں۔میرے نزدیک یہ کام بالکل ناممکن نہیں بلکہ ایک سکیم میرے ذہن میں آرہی ہے۔اگر ایسے نوجوان تیار ہوں جو اپنی زندگیاں تحریک جدید کو نہیں بلکہ میرے سامنے وقف کریں اور میری ہدایت کے ماتحت کام کریں۔تو میں سمجھتا ہوں کہ خدمت ( دینِ حق کا ایک بہت بڑا موقعہ اس زمانہ میں ہے۔جیسا کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے زمانہ میں تھا۔یا جیسا کہ حضرت سید احمد صاحب بریلوئی اور دوسرے صوفیاء یا اولیاء کے زمانہ میں جلد ۲۰