تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 192 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 192

تاریخ احمدیت مشورہ کر لینا ضروری سمجھا کرتے غرض 192 ھے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں جلد ۲۰ سید نا حضرت مصلح موعود ۲۳ تا ۲۷ مارچ ۱۹۳۵ء میں دورانِ مقد مہ گورداسپور شیخ علی احمد خاں صاحب کے بڑے صاحبزادے شیخ محمد نصیب خاں صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کی کوٹھی میں قیام فرما ر ہے اور متعدد بار لیکچر بھی دیا۔اگر چہ وہ بھی احمدی نہ تھے مگر دیر سینہ خاندانی تعلقات کی وجہ سے انہوں نے احراریوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کی۔حضرت شیخ محمد حسین صاحب کے سوانح اور سلسلہ احمدیہ کی خدمات جلیلہ کی تفصیل آپ کے فرزند اصغر جناب عبدالحمید صاحب عاجز بی اے واقف زندگی قادیان کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” خاکسار کے والد محترم شیخ محمد حسین صاحب مرحوم۔۱۸۸۲ء میں موضع دھرم کوٹ رندھاوا تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں وہاں کے ایک مشہور خاندان ککے زئیاں میں پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مڈل تک ۱۸۹۸ء میں وہاں کے مقامی سکول میں حاصل کی۔اس کے بعد آپ اپنے ماموں شیخ نور احمد صاحب کے پاس ایبٹ آباد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے ۱۹۰۰ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔جس کے بعد آپ ۱۹۰۱ء میں وہیں امیدوار گرداور قانون گو کا کام سیکھتے رہے۔عرصہ تقریباً چھ سال آپ نے ضلع ہزارہ کے مختلف علاقوں میں بندوبست کے کام کی ٹرینینگ حاصل کی اور ۱۹۰۷ء میں ضلع گورداسپور میں بطور گرد اور بندو بست تبدیل ہو کر آگئے۔۱۹۰۷ء سے قبل مکرم والد صاحب کے تین ماموں شیخ غلام احمد صاحب، شیخ نور احمد صاحب اور شیخ حسین بخش صاحب احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔جن میں سے شیخ غلام احمد صاحب سب سے پہلے احمدی ہوئے تھے اور باقی دو بھائی ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں احمدی ہوئے۔مکرم والد صاحب کو ان کے ضلع ہزارہ وایبٹ آباد کے قیام کے دوران میں آپ کے ماموں شیخ نور احمد صاحب اور حکیم محمد یحیی صاحب