تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 185 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 185

تاریخ احمدیت سوئٹزر لینڈ 185 جلد ۲۰ اس علاقہ میں شیخ ناصر احمد صاحب کام کر رہے ہیں۔شیخ صاحب مولود صاحب کی طرح انتظامی لحاظ سے تو کمزور ہیں لیکن تبلیغی روح رکھنے کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ کے ساتھ ملتے ہوئے جرمنی اور آسٹرین علاقہ میں تبلیغ ہو رہی ہے۔اور کئی لوگ دین حق میں دلچسپی لے رہے ہیں۔(چنانچہ جلسہ کے بعد انہوں نے دو بیعتیں سوئٹزرلینڈ کے ملتے ہوئے علاقہ سے بھجوائی ہیں )۔یہ روس سے ملتا ہوا یورپین علاقہ ہے۔اور ہالینڈ بلجیم، جرمنی اور انگلستان سکنڈے نیویا کے شمال مشرق میں واقع ہے۔اس علاقہ کی ایک حکومت فن لینڈ کہلاتی ہے۔چونکہ یہ علاقہ ترکوں کے علاقہ سے بہت قریب ہے اس لئے اس ملک میں لاکھوں ترک سینکڑوں سال سے بس رہے ہیں۔انہوں نے اب تک احمدیت قبول نہیں کی مگر ہمارے مبلغ کو بلا کر اپنے علاقہ میں انہوں نے تقریریں کروائیں۔دوسری حکومت اس علاقہ کی سویڈن کہلاتی ہے۔پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ سویڈن میں بیت الذکر بنائیں لیکن ایک جرمن نومسلمہ نے لکھا کہ میں نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں جگہ تجویز کی ہے۔میں نے سید کمال یوسف صاحب کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس جگہ کو دیکھ کر رپورٹ کریں۔اگر انہوں نے بھی اس کے حق میں رپورٹ کی تو اس علاقہ میں بیت الذکر بنانے کی مغربی افریقہ کی جماعتوں کو تحریک کی جائے گی۔کیونکہ ہمارے ملک کے ایچینج کی حالت خراب ہے اور ہمارے لئے زر مبادلہ کے حاصل کرنے میں وقت ہے۔مشرقی افریقہ مغربی افریقہ کی طرح اس علاقہ کے بعض احمدی بھی بہت مالدار ہیں بلکہ یہاں خدا تعالیٰ احمدیت کی امداد کی تحریک غیر مسلموں کے دلوں میں بھی پیدا کر رہا ہے۔یوگنڈا کے ایک شہر جہ میں بیت الذکر تعمیر ہوئی تو اس کے لئے بہت سا سامان ایک سکھ تاجر نے دیا۔نیز اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ یوگنڈا میں جتنی بیوت بھی تعمیر کی جائیں ان کے لئے میں لکڑی لوہا اور اینٹیں مہیا کرنے میں پوری مدد دوں گا۔ریشس اس جماعت کا ایک نمائندہ یہاں جلسہ سالانہ پر آیا ہوا ہے۔اور اس نے میری اجازت سے جماعت کے سامنے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔یہ جماعت خلافت ثانیہ کے آغاز میں قائم ہوئی تھی اب وہاں کئی فتنے سر اٹھا رہے ہیں لیکن جماعت کے مخلص نوجوان اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔چونکہ حکومت بھی مخالف ہے اس لئے ان کے رستہ میں بعض دقتیں پیش آ رہی ہیں۔