تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 186
تاریخ احمدیت سیلون 186 جلد ۲۰ اس علاقہ میں ماریشس سے بھی پہلے جماعت قائم ہوئی تھی اور میں نے اپنی خلافت کے اوائل میں ہی حافظ صوفی غلام محمد صاحب کو وہاں بھجوایا تھا جنہیں بعد میں ماریشس بھجوا دیا گیا۔اب اس ملک میں کچھ فتنے پیدا ہوئے ہیں اور تامل بولنے والے ہندوستانی ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔ہماری پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ہم مقامی باشندوں کی تائید کریں۔اس لئے میں نے یہاں کے قدیم باشندوں کی تائید کی ہدایت دی اور ہمارے مبلغ نے ان کی زبان سنہالی میں لٹریچر بھی شائع کیا جس کی وجہ سے قدیم باشندے تو ہمارے مؤید ہو گئے لیکن تامل بو ہنے والے جو اکثریت میں ہیں ہمارے مخالف ہو گئے ہیں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کی مشکلات دور فرمائے اور جماعت کو وہاں بیت الذکر بنانے کی توفیق مل جائے۔حضرت مصلح موعود نے ۱۹۳۸ء سے ”سیر روحانی“ کے بصیرت افروز اور بے مثال علمی تقاریر کا جو سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اس کا آخری حصہ تیسری اہم تقریر ۲۸ / دسمبر ۱۹۵۸ء کی تقریر میں حضور نے بیان فرمایا جس میں روحانی عالم کے عظیم الشان کتب خانوں پر مفصل روشنی ڈالی۔۷۵ دنیا کی چالیس سے زائد زبانوں میں تقاریر دنیا کی مختلف زبانوں میں تقاریر کا پروگرام قادیان میں سب سے پہلے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء کو جاری فرمایا تھا جو نہایت دلچسپ اور ایمان افروز تھا۔کئی سال تک یہ مبارک سلسلہ جاری رہا لیکن پھر بند ہو گیا۔اس سال سالانہ جلسہ کے موقع پر اس کا احیاء عمل میں آیا۔یہ خصوصی اجلاس ۲۶ / دسمبر ۱۹۵۸ء کی شام کو مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ تحریک جدید کے تحت منعقد ہوا۔اجلاس کا افتتاح حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نائب صدر عالمی عدالت انصاف نے ایک روح پرور خطاب سے فرمایا اور صدارت کے فرائض شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لائلپور (فیصل آباد) نے ادا کئے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب الوصیت اور کشتی نوح میں سے حسب ذیل دو اقتباس پڑھ کر سنائے جنہیں مقررین نے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے سنانا تھا: - (۱) خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء۔ان سب کو جو نیک فطرت