تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 184 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 184

تاریخ احمدیت 184 جلد ۲۰ اس جواب کو صحیح تسلیم کیا اور حکومت انگلستان نے بھی ہمارے پاس معذرت کر دی۔ہم نے اپنے مبلغ کو سمجھا دیا کہ حکومت کے افسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا چاہئے۔کیونکہ آخر اختیار ان کے پاس ہے۔امریکہ فرمایا : - امریکہ میں زیادہ تر حبشی لوگ دینِ حق قبول کر رہے ہیں۔اور ان میں سے بعض نہایت مخلص ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے اس سال سالانہ کا نفرنس میں بڑے زور سے دینِ حق کی اشاعت کرنے اور وصیت کی تحریک کو ہر احمدی تک پہنچانے کا عہد کیا ہے۔چند سفید فام افراد بھی احمدی ہوئے ہیں۔جن میں سے ایک کینیڈا کا ریٹائرڈ فوجی افسر ہے۔ایک جہازوں کا کمانڈر جو سفید رنگ کا ہے وہ بھی احمدی ہوا ہے۔ایک حبشی نوجوان وہاں کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔جب وہ تعلیم سے فارغ ہوگا تو ملک میں دین کی اشاعت کا انشاء اللہ بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔انگلستان (اس تقریر کے بعد نیویارک کے ایک نو مسلم کا خط ملا کہ نیو یارک میں اب احمدیت بہت مقبول ہورہی ہے۔اور جلد جلد پھیل رہی ہے ) اس ملک میں سب سے پہلے ہمارا مشن قائم ہوا تھا۔مگر بہت کم لوگ احمدی ہوئے۔اب مولود احمد صاحب کے ذریعہ تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جاری ہے۔اور چند بیعتیں بھی آئی ہیں۔ایک احمدی نوجوان کو ایک شخص نے ورغلانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے ایمان پر بڑی مضبوطی سے قائم رہا۔اور متزلزل نہ ہوا۔میرا منشاء ہے کہ انگلستان میں دو اور مقامات پر بھی جن سے جنوبا اور شمالاً ہر جگہ دین کا اثر ہو بیوت الذکر بنائی جائیں۔اس سلسلہ میں مولود احمد صاحب کو ہدایات بھجوائی جا چکی ہیں۔جرمنی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔چوہدری عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی بہت جرمنی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے نہ صرف ہمبورگ میں بیت الذکر بنائی ہے بلکہ فرانک فورٹ میں بھی جو جرمنی کا بڑا شہر ہے بیت الذکر کے لئے جگہ خریدی ہے۔اور ان کے تازہ خط سے معلوم ہوا ہے کہ وہ وہاں بیت الذکر بنانے کے لئے جا رہے ہیں۔(جلسہ کے بعد ان کا خط ملا۔جس میں انہوں نے ذکر کیا کہ اب احمدیت کی مقبولیت لوگوں میں بڑھ رہی ہے اور کثرت سے نئے آدمی جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بعض بیعتیں بھی بھجوائیں۔)