تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 3 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 3

تاریخ احمدیت 3 اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا۔بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائے گا جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں وہ صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں۔بلکہ اپنے گزارہ کے لئے وہ طریق اختیار کریں جو میں انہیں بتاؤں گا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ دُنیا میں نئی آبادی قائم کریں۔اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قادیان کی محبت اپنے دل سے نکال دیں اور باہر جا کر نئے ربوے اور نئے قادیان بسائیں۔ابھی اس ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں میلوں میں تک کوئی بڑا قصبہ نہیں وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں تبلیغ بھی کریں اور لوگوں کو تعلیم بھی دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھا ئیں اور اپنے شاگرد تیار کریں۔جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔اس طرح سارے ملک میں وہ زمانہ دوبارہ آ جائے گا جو پرانے صوفیاء کے زمانہ میں تھا۔دیکھو ہمت والے لوگوں نے پچھلے زمانہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی۔یہ دیو بند جو ہے یہ ایسے ہی لوگوں کا قائم کیا ہوا ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔اور آج سارا ہندوستان ان کے علم سے منور ہو رہا ہے۔حالانکہ وہ زمانہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کے زمانہ سے کئی سو سال بعد کا تھا۔لیکن پھر بھی روحانی لحاظ سے وہ اس سے کم نہیں تھا جبکہ ان کے زمانہ میں اسلام ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں تھا۔اس زمانہ میں بھی وہ ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں ہی تھا حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے اپنے شاگردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں بھجوایا جن میں سے ایک ندوہ کی طرف بھی آیا۔پھر ان کے ساتھ اور لوگ مل گئے اور ان سب نے اس ملک میں دین اور اسلام کی بنیادیں مضبوط کیں۔۔۔۔۔تو ہماری جماعت کے لئے اس ملک میں بھی ابھی صوفیاء کے طریق جلد ۲۰