تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 2
تاریخ احمدیت له 2 جلد ۲۰ لئے ایسا احسن انتظام کیا جائے کہ ممالک ہند میں ہر جگہ ہماری طرف سے واعظ و مناظر مقرر ہوں اور بندگانِ خدا کو دعوت حق کریں تا حجت ( دینِ حق ) روئے زمین پر پوری ہو۔لیکن اس ضعف اور قلت جماعت کی حالت میں ابھی یہ ارادہ کامل طور پر انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔سوم : - ( ۱۲ جنوری ۱۹۰۳ء بوقت ظہر ) ایک شخص نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ میرے پاس کچھ زمین ہے۔مگر ایک عرصہ سے اس میں آبادی کی کوشش کرتا ہوں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔اس لئے اب ارادہ ہے کہ اسے خدا کے نام پر احمد یہ مشن کی خدمت میں وقف کر دوں۔شاید اللہ تعالیٰ اس میں آبادی کردے اور وہ دین کی راہ میں کام آوے۔حضرت اقدس وو نے فرمایا کہ : - آپ کی نیت کا ثواب تو اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا۔لیکن آپ خود وہاں جا کر آباد کریں اور اخراجات کاشت وغیرہ نکال کر پھر جو کچھ اس میں بچا کرے وہ اللہ کے نام پر اس سلسلہ کو دے دیا کریں۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کی مبارک تحریک کا آغاز ۹ / جولائی ۱۹۵۷ء کے خطبہ عید الاضحیہ سے فرمایا جس کا مکمل متن پچھلی جلد میں آچکا ہے۔حضور نے فرمایا : - چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو۔کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں۔تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کرسکیں۔وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں۔لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے سہر وردیوں کی ضرورت ہے نقشبندیوں کی ضرورت ہے اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ