تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 174 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 174

تاریخ احمدیت 174 جلد ۲۰ تیسرا تابوت جناب مومن حسین صاحب مرحوم والدِ ماجد احمد حسین صاحب نائب امیر حیدرآباد (دکن) کا تھا۔۲۰ ا کتوبر کو آٹھ بجے صبح تینوں تابوت جنازہ گاہ میں لے جائے گئے اور امیر مقامی حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل نے جملہ مہمانانِ کرام درویشان قادیان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی اور یہ تینوں بزرگ مقبرہ بہشتی میں سپردخاک کر دیئے گئے۔1 اطالوی پروفیسر بار طولینی کی ربوہ میں آمد ۹ نومبر ۱۹۵۸ء کو اطالوی پر و فیسر آ وسوالڈ و بر طولینی مجلس اردو تعلیم الاسلام کالج کی دعوت پر لاہور سے ربوہ آئے۔پروفیسر صاحب موصوف میلان یو نیورسٹی میں اردو کے پروفیسر تھے۔اور خوب روانی سے درست لہجہ سے اردو بول سکتے تھے۔آپ نے طلبہ کالج سے خطاب کیا جس میں اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات بیان کئے۔بعد ازاں آپ ربوہ کے مرکزی ادارے دیکھنے کے علاوہ سیدنا حضرت مصلح موعود کی ملاقات سے بھی مشرف ہوئے۔پروفیسر بار طولینی نے ربوہ کی تعمیر اور اداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت احمد یہ کی اپنی کوشش سے ایک چٹیل اور بے آب و گیاہ میدان کا چند ہی سال کے اندر اندر ایک ایسے شہر میں تبدیل ہو جانا کہ جس میں کالج سکول اور تبلیغی ادارے سب کچھ موجود ہو ایک معجزے سے کم نہیں۔یہ کام وہی انجام دے سکتے ہیں جن میں مشنری سپرٹ کارفرما ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے یہاں کے لوگوں میں وہی جذبہ اور وہی ایمان کارفرما دیکھا ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ابتدائی حواریوں میں موجزن تھا۔انہوں نے ربوہ کے تعلیمی اداروں میں سے خاص طور پر جامعہ احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا میں نے پاکستان کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں اتنی تعداد میں غیر ملکی طلبہ نہیں دیکھے جتنی تعداد میں یہاں موجود ہیں اور پھر وہ دینی علم حاصل کر رہے ہیں۔یہ سب باتیں میرے لئے نئی ہیں اور دلچسپی کو بڑھانے والی ہیں۔میں ایک ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی یاد یہاں سے لے کر لوٹوں گا۔سیدنا حضرت مصلح موعود کا پیغام حضرت مصلح موعودؓ نے سیرالیون کی سالانہ احمد یہ کانفرنس منعقده ۱۴،۱۳،۱۲ / دسمبر سیرالیون کی سالانہ کانفرنس کے لئے ۱۹۵۸ء) کے لئے حسب ذیل بصیرت افروز پیغام ارسال فرمایا : -