تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 172
تاریخ احمدیت 172 جلد ۲۰ ۱۰- مولانا محمد عبد اللہ صاحب مالا باری فاضل مبلغ سلسلہ کیرالہ سٹیٹ جلسہ سالانہ قادیان کے بعض اہم کو الف ایس سال جلسہ سالانہ قادیان کی مبارک تقریب پر پاکستان سے تو کوئی قافلہ نہ آسکا۔مگر ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے عقیدت مند مسیح پاک کی مقدس بستی کی زیارت اور چند روز خصوصی دعاؤں میں گزارنے کے لئے پہنچ گئے۔جلسہ میں بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر مشرقی افریقہ کے احمدی احباب کو جلسہ میں نمائندگی کا شرف حاصل ہوا۔چنانچہ سید ناصر احمد شاہ صاحب بی اے بی ٹی مع افراد بیت دائگی مرکز میں پہنچے اور مقامات مقدسہ کی زیارت اور جلسہ کی عظیم برکات سے مستفیض ہوئے۔حسب سابق جملہ مہمانان کرام کے قیام و طعام کے سب انتظامات صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ کی زیر نگرانی نہایت تسلی بخش رہے۔موسم کے مناسب حال سایہ کے لئے جلسہ گاہ ( مردانہ و زنانہ ) میں شامیانے نصب کئے گئے لاؤڈ سپیکر کا عمدہ انتظام رہا۔اس کے ذریعہ پہلے اور تیسرے روز مردانہ جلسہ گاہ سے زنانہ جلسہ گاہ میں سارا پروگرام نہایت عمدگی سے سنا جاتا رہا۔درمیانے روز یعنی ۱۸ / اکتوبر کو مستورات کے جلسہ کا علیحدہ پروگرام تھا وہ بھی بخیر و خوبی پورا ہوا۔فصل کی بوائی کی مصروفیت کے باعث جلسہ کی حاضری نسبتا کم رہی تاہم بہت سے غیر مسلم دوست جلسہ کے مختلف اجلاسات میں تشریف لاتے رہے۔اور ایک اچھی خاصی رونق ہو جاتی رہی۔زنانہ جلسہ گاہ میں غیر مسلم خواتین بھی جلسہ کی کارروائی سننے کے لئے آتی رہیں۔خواتین کا باپردہ جلسہ گاہ حسب سابق حضرت مولوی عبد المغنی صاحب کی کوٹھی کے کھلے صحن میں تیار کیا گیا تھا۔جلسہ کے تقریری پروگرام سے فراغت کے اوقات تمام دوستوں نے حتی الامکان ذکرِ الہی دعاؤں اور انابت الی اللہ میں گزارے۔جملہ احباب بیت مبارک، بیت اقصیٰ ، بیت الدعا اور مقبرہ بہشتی میں انفرادی و اجتماعی دعاؤں کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے رہے۔چونکہ شروع زمانہ درویشی سے اب تک بیت مبارک میں روزانہ بلا ناغہ تہجد کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اس لئے مہمانانِ کرام کو اس طرح اجتماعی قیام اللیل میں شرکت اور رات کے آخری وقت خصوصی دعاؤں کا موقع میسر رہا۔روزانہ فجر کی نماز کے بعد بیت مبارک میں مکرم مولوی شریف احمد صاحب امینی درس القرآن دیتے رہے۔اور بیت اقصیٰ میں حسب سابق کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس جاری رہا۔