تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 166 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 166

تاریخ احمدیت 166 جلد ۲۰ ہے۔ہم امیر ہیں لیکن اس لئے کہ اس کی رحمتیں ہم پر برستی ہیں۔ہم امیر ہیں لیکن اس لئے کہ اس کی نہ ختم ہونے والی برکتیں ہمیں حاصل ہیں۔یہی ہماری امارت ہے اور یہی ہماری ثروت۔الغرض میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں اس کی پرواہ کئے بغیر کہ اخراجات کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔بیرونی ممالک میں بھی انصار اللہ کے قیام کی جدوجہد شروع کر دینی چاہئے۔ہماری کوئی جماعت خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں ہو ایسی نہ رہے کہ اس میں مجلس انصاراللہ قائم نہ ہو جہاں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہیں وہاں وہاں مجلس انصار اللہ کا قائم ہونا از حد ضروری ہے اور اس میں غفلت یکسر نا قابل برداشت ہے۔انصار اللہ کے جس کام کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اس کا تعلق تنظیم سے ہے۔تنظیم ہمیشہ کسی اعلیٰ تر مقصد کے پیش نظر ہوا کرتی ہے۔اپنے اعلیٰ ترین مقصد کے حصول کی طرف توجہ دینا ہم سب کا اولین فرض ہے۔ہمارا اعلیٰ ترین مقصد ہے نصرت دین۔مجلس انصاراللہ کی تنظیم ہے ہی اس لئے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس درجہ ( دینِ حق) کے رنگ میں رنگین کریں اور ہم خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت کرنے کے قابل بن سکیں۔دین کی نصرت ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟ اس کے لئے ہمیں مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اور اس کے مقتضیات کو پورا کرنے کے لئے ہر آن مستعد رہنا چاہئے۔سو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اپنی کتابوں میں واضح فرمایا ہے کہ آپ کی بعثت کی غرض دنیا میں دین حق کو قائم کرنا ہے اس مقصد کی تکمیل کو ہماری تمام تر جدوجہد میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ہمارا اصل اور بنیادی کام یہی ہے۔باقی سب کام ذیلی ہیں دنیا میں دین حق اس طرح قائم ہوگا کہ ہم دنیا کو زندہ خدا، زندہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور زندہ کتاب کی طرف بلائیں۔دینِ حق کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف خود اس یقین پر قائم ہو جائیں بلکہ دنیا کو بھی یہ باور کرائیں کہ ( دین حق ) جو خدا پیش کرتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے ہم میں سے کون ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے زندہ خدا کی زندہ تجلیات کو نہیں دیکھا۔ہم میں سے ہر ایک نے اسے دیکھا ہے اس نے ہمیں انفرادی اور اجتماعی دونوں قسم کے معجزات دکھائے ہیں اور اس کثرت سے دکھائے ہیں کہ ہم اس کی ہستی کا انکار کر ہی نہیں سکتے۔ہم نے اپنے انفرادی معاملات میں بھی اور اجتماعی کاموں میں بھی خدا کی نصرت کو بارش کی طرح برستے دیکھا ہے۔یہ ہو ہی کیسے سکتا ہے کہ ہم اپنے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے اس کے وجود کے منکر ہو جائیں یا یہ باور کرنا چھوڑ دیں کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔دوسری