تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 133
تاریخ احمدیت 133 حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ کا نکاح اکتوبر ۱۹۰۲ء میں بمقام رڑکی میں ہوا تھا جہاں ان کے والد محترم حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جو قدیم صحابہ میں سے تھے ان ایام میں متعین تھے۔اس تقریب میں خلیفہ اول بھی شامل ہوئے۔اگلے سال یعنی ۱۹۰۳ء میں بمقام آگرہ آپ کا رخصتا نہ ہوا۔اس طرح حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ نے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے ساتھ قریباً پچپن چھپن سال گزارے جو خدا کے فضل سے ایک بہت غیر معمولی زمانہ ہے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت کا بھی ایک لمبا موقعہ میسر آ گیا اور پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے اولاد بھی دوسروں کی نسبت زیادہ عطا کی جن میں سے اس وقت خدا کے فضل سے سات لڑکے اور دولڑکیاں زندہ موجود ہیں۔ان میں سب سے بڑے عزیزم مکرم مرزا ناصر احمد سلمہ ہیں اور سب سے چھوٹے عزیز مرزا رفیق احمد ہے جو ابھی تک زیر تعلیم اور قابلِ شادی ہے اور سیدہ مرحومہ کو بہت عزیز تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کے زخمی دلوں پر اپنی جناب سے مرہم کا پھایہ رکھے۔آمین یا ارحم الراحمین۔سیده ام ناصر احمد صاحبہ نہایت ملنسار، سب کے ساتھ بڑی محبت اور کشادہ پیشانی سے ملنے والی اور حقیقتا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے گھر کی رونق تھیں اور حضرت اماں جان۔۔۔کی وفات کے بعد جماعت کی مستورات کا گویا وہی مرکز تھیں۔کیونکہ عمر میں بھی وہ ہمارے خاندان کی سب خواتین میں بڑی تھیں اور طبیعت کے لحاظ سے بھی اس امتیاز کی اہل تھیں۔بے شک ہماری بڑی ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کو بھی یہ وصف نمایاں طور پر حاصل ہے مگر وہ لاہور میں رک جانے اور بعض الجھنوں میں پھنس جانے کی وجہ سے ربوہ کی مرکزیت میں عملاً حصہ دار نہیں بن سکیں اس لئے عملاً یہ فرض سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کے ذمہ ہی رہا۔لہذا ان کی وفات نے وقتی طور پر یقیناً ایک خلا ء سا پیدا کر دیا ہے جسے دور کرنے والا خدا ہی ہے۔سیدہ امم ناصر احمد صاحبہ نے بہت بے شر طبیعت پائی تھی ان کے جلد ۲۰