تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 129 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 129

تاریخ احمدیت انتظامات 129 جلد ۲۰ کل صبح حضرت سیدہ مرحومہ کی وفات کی اطلاع ملتے ہی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی امیر مقامی کی زیر نگرانی بیرونی جماعتوں کو وفات کی اطلاع دینے ، نماز جنازہ اور تدفین اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور قافلہ کی سہولت و آرام کے انتظامات کا کام سرگرمی کے ساتھ شروع ہو گیا۔اس سلسلہ میں حضرت میاں صاحب ممدوح کے ساتھ محترم مرزا عزیز احمد صاحب، مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر اور دیگر ناظر صاحبان بھی بہت مصروف رہے۔مکرم میر داؤ د احمد صاحب معتمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور مکرم مولوی محمد صدیق صاحب صدر عمومی ربوہ نے بھی اپنے معاونین کے ہمراہ انتظامات کی تکمیل میں خاص طور پر حصہ لیا۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء۔مقامی احباب کو لاؤڈ سپیکر کے ذریعے قافلہ کی روانگی ربوہ پہنچنے اور نماز کے وقت سے مسلسل اطلاع دی جاتی رہی۔۳۸ تعزیتی تاروں اور خطوط کا جواب حضرت ام ناصر کی المناک وفات ایک نہایت درد ناک جماعتی حادثہ تھا جس پر مرکزی تنظیموں اور اداروں نے تعزیتی قرار دادیں پاس کیں اور دنیا کے مختلف اطراف سے بہت سے مخلصین نے تعزیتی تاریں اور خطوط ارسال کئے جن کے جواب میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( صدر انجمن احمد یہ ربوہ ) نے حسب ذیل الفاظ میں مکتوب لکھے :- بسم الله الرحمن الرحيم بخدمت نحمده و نصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضرت امی جان کی وفات پر آپ کا تعزیتی تار/ خط ملا۔جزاکم اللہ واحسن الجزاء۔میری طرف سے اور باقی بہن بھائیوں اور دیگر افراد خاندان کی طرف سے دلی شکریہ قبول فرما ئیں۔اک مختصر سی علالت کے بعد ہماری امی جان کا یوں اچانک رخصت ہو جانا ایک بہت بڑا حادثہ ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ آپ ہی کا بابرکت وجود تھا جسے خود سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر انتخاب نے چنا اور تربیت فرمائی۔اور پھر انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک عسر اور لیسر میں کمال اطاعت اور وفاداری سے سیدنا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت