تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 128 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 128

تاریخ احمدیت 128 تدفین مکمل ہونے تک حضور ایدہ اللہ تعالیٰ وہیں کرسی پر تشریف فرما رہے۔تابوت پر چھت پڑنے کے بعد آٹھ بج کر پانچ منٹ پر حضور ایدہ اللہ نے اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی اور حضور کی اتباع میں باقی احباب نے بھی مٹی ڈالنے میں حصہ لیا۔قبر تیار ہونے پر سوا آٹھ بجے حضور نے مسنون طریق پر دعا کرائی جس میں تمام احباب شریک ہوئے اور اس طرح حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومه مغفورہ کو حضرت اماں جان۔۔۔۔۔۔۔کے مزار کے قرب میں جانب مغرب سپرد خاک کر دیا گیا۔اس کے بعد حضور نے حضرت اماں جان۔۔۔۔۔کے مزار مبارک پر دعا فرمائی اور پھر بذریعہ کار واپس تشریف لے آئے۔جلد ۲۰ جنازہ میں شرکت کرنے والے احباب کا جنازہ میں شمولیت کرنے والے احباب اندازہ چار پانچ ہزار کے قریب ہے جو مغربی پاکستان کے ہر علاقے اور گوشے سے آئے ہوئے تھے۔حضرت سیدہ مرحومہ کی وفات کے معاً بعدا یکسپریس تاروں اور ٹیلیفون کے ذریعہ جماعتہائے احمد یہ کے امراء صاحبان کو اس سانحہ کی اطلاع کر دی گئی تھی۔نیز ریڈیو پاکستان کے ذریعہ بھی وفات کی خبر نشر کرنے کا اہتمام کر دیا گیا تھا۔تا کہ جلد سے جلد احباب جماعت کو اطلاع ہو سکے۔چنانچہ ۳۱ / جولائی بروز جمعرات کی دو پہر سے ہی مختلف شہروں سے احباب جماعت ربوہ پہنچنے شروع ہو گئے تھے اور مورخہ یکم اگست کی صبح تک ہزاروں کی تعداد میں احمدی مرد و زن ربوہ پہنچ چکے تھے۔اور مغربی پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ان میں سے بعض تو ہوائی جہازوں کے ذریعہ ربوہ پہنچے تھے۔تا کہ نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں۔نماز جنازہ اور تدفین میں شامل ہونے والوں میں وہ غیر ملکی طلبہ بھی تھے جو دنیا کے مختلف حصوں سے دین سیکھنے اور خدمت دین میں اپنی زندگی بسر کر نے ربوہ آئے ہوئے ہیں۔حضرت سیدہ مرحومہ کے بھائیوں میں سے مکرم خلیفہ علیم الدین صاحب اور مکرم خلیفہ صلاح الدین صاحب پہلے سے ربوہ میں موجود تھے۔آپ کے دوسرے بھائی ڈاکٹر کرنل تقی الدین احمد صاحب اور ہمشیرہ محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ خان بہادر خلیفہ اسد اللہ صاحب مرحوم ) کراچی میں تھے۔وہ دونوں بذریعہ طیارہ کراچی سے ۳۱ / جولائی کو روانہ ہو کر ساڑھے دس بجے ربوہ پہنچ گئے تھے۔