تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 127
تاریخ احمدیت 127 جنازہ باہر لایا گیا۔جبکہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نونہالوں نے اسے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔باہر لا کر تابوت ایک چار پائی پر رکھ دیا گیا۔اور اس کے ساتھ دو لمبے بانس باندھ دیئے گئے تا کہ زیادہ سے زیادہ احباب بآسانی کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔اس موقعہ پر بزرگان سلسلہ اور ناظر و وکلاء صاحبان کے علاوہ دور و نزدیک کی بڑی بڑی احمدی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔یہاں سے جنازہ جو ایک تابوت میں رکھا ہوا تھا بیت المبارک کے احاطہ سے باہر لایا گیا۔باہر سوگوار عورتوں اور مردوں کا ایک جم غفیر موجود تھا۔احباب ایک نظام کے ما تحت باری باری کندھا دینے کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔سات بجے جنازہ مقبرہ بہشتی کے میدان میں پہنچ گیا۔اور احباب نماز جنازہ کے لئے صفوں میں کھڑے ہو گئے۔سواسات بجے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بذریعہ کار تشریف لائے اور حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ میں شریک ہونے والے احباب نو لمبی صفوں پر مشتمل تھے جن میں سے ہر صف میں کم و بیش پانچ سو افراد تھے۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنازہ کو حضرت اماں جان نوراللہ مرقد با کے مزار مبارک والی چار دیواری میں لایا گیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ کے میدان سے لے کر چار دیواری تک مسلسل جنازہ کو کندھا دیا۔اور اس طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد نے بھی۔افراد خاندان حضرت مسیح موعود کے علاوہ رفقائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام، صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے ناظر و وکلاء افسران صیغه جات، بیرونی مبلغین علمائے سلسلہ، بیرونی جماعتوں کے نمائندگان اور غیر ملکی طلباء کو چار دیواری کے اندر جانے کا موقع دیا گیا۔پونے آٹھ بجے تابوت کو قبر میں اتارا گیا۔تابوت کو قبر میں اتارنے میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت سیدہ مرحومہ کے ساتوں فرزندان کے علاوہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، خلیفہ صلاح الدین صاحب اور سید میر داؤد احمد صاحب نے حصہ لیا۔جلد ۲۰