تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 126
تاریخ احمدیت 126 دوست ہیں قافلے کے لئے پانی کا اور جنازہ کے لئے برف کا انتظام کئے رات بھر سے انتظار کر رہے تھے۔حضور نے انہیں شرف باریابی بخشا۔چند مخلص اور جانثار دوست طارق کمپنی کی ایک بس میں ربوہ ہی سے خوشاب پہنچ ای گئے تھے جس میں اور دوستوں کے علاوہ چوہدری صلاح الدین صاحب اور سید احمد صاحب بھی شامل تھے۔خوشاب سے پٹرول ڈلوا کر قافلہ اسی رفتار سے روانہ ہوا۔جب احمد نگر کے پاس پہنچے تو احمد نگر کے احباب ملے جو ساری رات سڑک پر اپنے پیارے آقا کی آمد کا انتظار کرتے رہے تھے۔سوا تین بجے یہ غم زدہ قافلہ ربوہ کے اڈہ سے گزر رہا تھا جہاں بہت بڑا ہجوم قطاریں باندھے ہمارا انتظار کر رہا تھا۔اور کچھ لوگ آمد کی خبر سن کر ننگے پاؤں اور ننگے سر گھروں سے دوڑ کر آتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔موٹریں آہستہ آہستہ ان کے سامنے سے گزر رہی تھیں اور حضور سب کے سلام کا جواب دے رہے تھے۔جب ہم قصر خلافت میں پہنچے تو تمام خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بزرگان سلسلہ اور چھوٹے بڑے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے تھے۔حضور کار سے اتر کر اندر تشریف لے گئے۔تب معلوم ہوا کہ جنازہ والی بس ابھی تک نہیں پہنچی۔اس وقت بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا مگر خدا کا فضل ہوا کہ تھوڑی دیر کے بعد جنازہ والی بس پہنچ گئی۔جب یہ بس آکر کھڑی ہوئی تو دل ہلا دینے والا منظر سامنے تھا کہ سب لوگ حضرت امی جان کے جنازہ کو دیکھ کر بے حد سسکیاں بھرنے لگے۔سب حاضرین نے بڑھ چڑھ کر کندھا دینے کی کوشش کی۔جنازہ اندر پہنچایا گیا۔۳۷ نماز جنازہ اور تدفین الفضل کے خصوصی نامہ نگار کی رپورٹ ہے کہ : - در صبح چھ بجے تک مستورات کو حضرت سیدہ مرحومہ کی زیارت کا موقع دیا گیا۔چنانچہ مستورات نے ہزاروں کی تعداد میں حاضر ہو کر زیارت کا شرف حاصل کیا۔ساڑھے چھ بجے صبح حضور حضرت سیدہ مرحومہ کے مکان کے بیرونی صحن میں جہاں جنازہ رکھا ہوا تھا تشریف لے آئے۔پونے ساتھ بجے حضرت سیدہ مرحومہ کے مکان سے جلد ۲۰