تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 125
تاریخ احمدیت 125 بھی نہ لکھا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے اور بھی الجھن پیدا ہو جاتی۔میری پریشانی اور حیرانی کا احساس حضور کو بھی ہوا۔حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ چکوال نہیں تو پشاور یا مردان ضرور لکھا ہو گا ہم چکوال جا رہے ہیں اور تم لاہور اور جہلم بتا رہے ہو۔آخر حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے چکوال کے راستہ کی وضاحت کر کے میری مشکل حل کر دی۔مدراں تھانہ کے پاس ہماری ایک موٹر کی روشنی خراب ہو گئی اور وہاں قافلہ کو تقسیم کرنا پڑا۔بسیں اور خدام الاحمدیہ کی موٹریں پہلے چکوال روانہ کر دیں اور باقی کار میں تھوڑی دیر میں روشنی ٹھیک ہونے کے بعد روانہ ہوئیں۔اب چکوال کی سنسان سڑک پر یہ برق رفتار قافلہ جا رہا تھا۔رات پونے دس بجے ہم چکوال پہنچے۔حضور کا ارشاد ہوا چکوال کے ڈاک بنگلہ میں نماز مغرب اور عشاء پڑھیں گے۔چنانچہ اسی وقت ڈاک بنگلہ پہنچے۔حضور کے پیچھے مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کا موقعہ ملا۔پونے گیارہ بجے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا ڈاکٹر منور احمد صاحب کے مشورہ سے ربوہ کو براستہ تلہ گنگ قافلہ روانہ ہوا۔اب چونکہ آدھی رات کا وقت ہو گیا تھا۔حضور نے احباب ربوہ کے انتظار اور پریشانی کے خیال سے تیز چلنے کا ارشاد فرمایا۔ہماری ہر موٹر آج ربوہ اڑ کر پہنچنا چاہتی تھی۔حضور نے پھر مسافت دریافت فرمائی چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی۔یہ سفر جو غم زدہ اور پریشان حال اور دکھے دلوں کا نہ بھولنے والا سفر تھا اس میں مجھے درود شریف اور استغفار پڑھنے کا بہت موقعہ ملا۔اور صحیح سلامت پہنچنے اور حضور کی درازی عمر وصحت یابی اور خاندان حضرت مسیح موعود اور سلسلہ کے تمام کارکنوں اور مبلغین کے لئے اور اپنے جملہ خاندان کے لئے دعائیں کرتا رہا۔اس طرح جس نے بھی مجھے دعا کے لئے کہا میں نے سب کے لئے اس سفر میں باوجود اتنی مصروفیت کے بارگاہ الہی سے دعائیں مانگیں کہ ہم سب کو اپنے فضل کے سایہ تلے ہمیشہ رکھے۔آمین۔اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔آمین ثم آمین۔رات کے پونے دو بجے ہم خوشاب پہنچے۔یہاں بہت سے احباب حاضر تھے۔خوشاب کے محترم چوہدری نثار احمد صاحب جو بہت ہی مخلص جلد ۲۰