تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 124 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 124

تاریخ احمدیت 124 سواران دشوار گزار راستہ پر اتاری جارہی تھیں اس وقت میں نے ان کی پالکی کو کندھا دیا تھا لیکن اب آج مری سے روانگی کے وقت ان کے جنازہ کو کندھا دے رہا ہوں۔انتظامات مکمل ہو جانے پر چار بجے خاندان کے افراد کے لئے دو بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔اس میں سب بیٹھ گئے اور ہمارا قافلہ روانہ ہوا راستہ میں باقی قافلہ چھرہ پانی میں تھوڑی دیر کے لئے رک گیا مگر حضور نے فرمایا کہ ہم تریٹ میں نماز ظہر وعصر پڑھ کر چلیں گے۔اس لئے ہم آگے تریٹ چلے گئے۔جب ہم نماز سے فارغ ہوئے سارا قافلہ روانہ ہوا اور تقریباً چھ بجے ہم راولپنڈی پہنچے۔وہاں بزرگانِ جماعت راولپنڈی اور خدام اپنے محبوب آقا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔قافلہ کے لئے چائے اور پانی کا مناسب انتظام کیا گیا تھا۔پیر صاحب اور جماعت راولپنڈی کے خدام بھاگ بھاگ کر ہر دوست کی خدمت میں پانی و چائے پیش کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔آمین۔وہاں پنجاب بس ٹرانسپورٹ کی دو بسوں کا انتظام کیا گیا تھا اور جنازہ کی حفاظت کے لئے کافی مقدار میں برف کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ان بسوں میں سامان، سواریاں اور جنازہ منتقل کیا گیا۔جماعت پنڈی کے چند خدام دو موٹروں کے ساتھ ہمارے قافلہ میں شامل ہوئے۔ساڑھے سات بجے راولپنڈی سے پٹرول ڈلوا کر قافلہ براستہ چکوال روانہ ہوا۔سورج غروب بھی ہو رہا تھا مگر ہمارے غموں میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی۔بلکہ لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہی ہو رہا تھا۔میں اس ہے راستے سے واقف نہ تھا جب حضور نے دریافت فرمایا کہ چکوال کتنے میل۔میں نے آنکھوں پھاڑ کر میل سٹون کو دیکھا مگر جہلم اور لاہور کے علاوہ اور کچھ لکھا نہ پایا۔میں نے سمجھا کہ شاید غلطی سے پڑھ نہ سکا ہوں گا پھر دوسرے میل سٹون کو زیادہ غور سے دیکھا مگر اس پر بھی چکوال نہیں لکھا تھا۔میں نے عرض کیا حضور چکوال نہیں لکھا ہے شاید یہ یاد نہ رہا تھا کہ چکوال کا راستہ آگے جا کر جدا ہوتا ہے حضور نے پھر دریافت فرمایا کہ چکوال کتنے میل ہے میں نے پھر بڑی کوشش کی مگر حیران تھا کہ چکوال آخر کیوں نہیں لکھا۔میں نے پھر عرض کیا حضور جہلم اور لاہور لکھا ہے چکوال کہیں نہیں لکھا۔کئی سنگ میل پر تو کچھ جلد ۲۰