تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 121 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 121

تاریخ احمدیت 121 جلد ۲۰ که صرف حضور کو ملنے کی شدید تڑپ تھی۔اس کے بعد حضور نے قبر وغیرہ تیار کرنے کی ہدایت فرمائی کہ ربوہ فون کر دیا جائے اور ساتھ ہی فرمایا کہ غسل اور کفن مری میں ہی دیا جائے۔چنانچہ مولوی محمد اشرف صاحب ناصر مربی مری کفن تیار کروانے گئے۔اور پانی وغیرہ تیار کروا کر والدہ لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ اور خوش دامنہ صاحبہ کیپٹن محمد سعید صاحب نے امی جان کو غسل دیا۔ان کے معاون کے طور پر سیده مهر آپا صاحبہ و سکینه بی بی خادمه سیده ام متین صاحبہ اور رشیدہ بی بی خادمہ عزیزه امتہ العزیز نے کام کیا۔لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ نے اس سلسلہ میں مناسب امداد کی۔فجزاهم الله احسن الجزاء اس طرح غسل اور کفن پہنانے کے بعد تقریباً سوا تین بجے حضرت مصلح موعود نے حاضر خدام کے ساتھ جن میں مری کے کچھ دوست بھی شامل تھے نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ کو ایک بس میں چار پائی پر رکھا گیا۔اور سب حاضر افراد خاندان و دیگر دوست حضرات مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں جنازہ کو لے کر چار بجے کے قریب مری سے روانہ ہوئے۔اور چھ بجے کے قریب راولپنڈی پہنچے۔راولپنڈی جنازہ کو دوسری بس میں منتقل کیا گیا۔اس طرح سامان و سواریاں دوسری بسوں میں منتقل ہوئیں اور سات بجے راولپنڈی سے روانہ ہوئے۔راولپنڈی کی جماعت بھاری تعداد میں سڑک پر پیر انوارالدین صاحب کے مکان کے سامنے موجود تھی جہاں شامیانے لگوا دئیے گئے تھے اور دوسری بسیں تیار تھیں تا ہمارے لئے بسیں تبدیل کرنے میں سہولت رہے۔ان دوستوں نے ہر طرح سے ہمارے آرام کا خیال رکھا۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔سات بجے راولپنڈی سے روانہ ہو کر سوہاوا، چکوال، تلہ گنگ، جابہ ، خوشاب کے راستہ سے ہوئے ہوئے ہم لوگ تین بجے ربوہ کی حدود میں داخل ہوئے جہاں ہزاروں مرد بچے اور عورتیں ہمارے انتظار میں رات بھر سے جاگ کر سڑک پر کھڑے تھے۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔“ ( روزنامہ الفضل ۱۲ را گست ۱۹۵۸ء صفحه ۴ ) صو بیدار عبدالغفور خاں صاحب سابق افسر حفاظت ۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء کے اس