تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 100
تاریخ احمدیت 100 جلد ۲۰ مجلۃ الازہر میں جماعت احمد یہ غانا کی تعلیمی خدمات کا تذکرہ جماعت احمد یہ غانا عرصہ دراز سے مسلمانانِ افریقہ میں تعلیم عام کرنے کی کوششیں کر رہی تھی۔اس عظیم الشان جد وجہد کے شاندار نتائج و آثار اب عرب ممالک کے سامنے بھی آنے شروع ہو گئے۔چنانچہ شیخ الازہر مصر کی پریس برانچ کے ناظم الاستاذ عطیہ صقر نے از ہر یونیورسٹی کے ماہنامہ مجلۃ الازہر (جولائی ۱۹۵۸ء) میں الاسلام فی غانا“ کے موضوع پر ایک تحقیقی مضمون شائع کیا جس میں جماعت احمدیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ” ولهم نشاط بارز فى كافة النواحى ومدارسهم ناجحة بالرغم من ان تلاميذها لا يدينون جميعا بمذهبهم “ (جماعت احمدیہ ) کی سرگرمیاں تمام امور : مور میں انتہائی کامیاب ہیں اور ان کے مدارس کامیابی سے چل رہے ہیں۔باوجود ان مدارس کے سب طلبہ ان کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔جماعت احمدیہ قادیان کا ذکر ماریشس کے پریس میں ماریشس کے ایک بااثر اخبار لی پراگرس اسلامک (LE PROGRESS ISLAMIQUE) نے جماعت احمدیہ قادیان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:- ” جماعت احمد یہ قادیان (ہندوستان ) یقیناً مستعد اور باعمل ہے اور دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔یہ بہت مضبوط اور متحد تنظیم ہے اس کا سالانہ جلسہ بھی ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ممبران جماعت سے با قاعدہ چندے لئے جاتے ہیں جن کے متعلق حکومت کوئی قانونی گرفت نہیں کرتی۔جماعت احمدیہ کے مرد سو فیصدی تعلیم یافتہ ہیں اور پچھتر فیصدی عورتیں پڑھی ہوئی ہیں۔جو باپردہ سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔جماعت میں باہمی تعاون اور پجہتی کا بے پناہ جذبہ پایا جاتا ہے۔قادیان کے احمدی خوشی کے ساتھ سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جماعت بھی ان کی امداد کرتی اور ان کو سہارا دیتی ہے۔وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ وہ وقف کر کے ایک نہایت عمدہ اور تعمیری کام میں حصہ لے رہے ہیں۔قادیان جو جماعت احمدیہ کا مرکز ہے کسی وقت یہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا لیکن اب وہ ایک ترقی یافتہ قصبہ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کی کھپت بھی ہو سکتی ہے۔