تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 93
تاریخ احمدیت 93 تھا اور وعدہ کر چکا تھا سيهزم الجمع ویولون الدبر۔چنانچہ جیسے اللہ تعالیٰ نے جو علیم و قدیر ہے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے قول کو ہی سرفرازی ہوئی۔چند گھنٹوں کے اندر قریش کا غرور و تکبر بدر کے میدان میں خاک و خون میں ملیا میٹ ہو کر رہ گیا۔دو پہر کے کھانے تک ہم بفضل اللہ بخیریت جدہ واپس پہنچ گئے۔۲۶ کی صبح کو میں آخری بار عمرہ ادا کرنے کے لئے بیت اللہ کے صحن میں حاضر ہوا۔مکہ معظمہ سے واپسی پر جدے سے بیروت کے ہوائی سفر پر روانہ ہوا۔سفر کے دوران میں دل میں پیہم جذبات تلاطم برپا رہا اور آنکھوں سے آبشار جاری رہی اور زیر لب حسرت قلب کا اظہار ان پر سوز الفاظ میں ہوتا رہا ے پریدم سوئے کوئے او مدام من اگر می داشتم بال و پرے جلد ۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء اس سال مجلس مشاورت ۲۶،۲۵ را پریل ۱۹۵۸ء کو حسب سابق تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے ہال میں منعقد ہوئی۔مشاورت کے صرف دو اجلاس ہوئے جن کی ساری کارروائی سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے باوجود گرمی اور ناسازی طبع کے کسی معاون کے بغیر خود سرانجام دی۔مشاورت میں ۴۳۸ نمائندگان نے شرکت کی۔سید شاہ محمد صاحب اور ملک عزیز احمد صاحب نے انڈونیشیا کی ، شیخ مبارک احمد صاحب نے افریقہ کی اور مسٹر بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے انگلستان کی نمائندگی کا شرف حاصل کیا۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے شوری کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:- " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سلطان عبدالحمید آف لڑکی کی ایک بات بہت پسند ہے۔جب یونان نے حملہ کیا تو سلطان عبدالحمید نے اپنے وزیروں کو بلا کر مشورہ کیا۔وہ لوگ لڑنا نہیں چاہتے تھے۔اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے یہ انتظام بھی کرلیا ہے اور وہ انتظام بھی کر لیا ہے۔لیکن فلاں بات نہیں ہو سکی۔وہ بادشاہ کو یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کوئی بہانہ ہی بنانا تھا۔سو انہوں نے اس طرح سلطان عبد الحمید کے دل کو جنگ سے پھرانے کی کوشش