تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 90 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 90

تاریخ احمدیت 90 افضل الرسل خاتم النبيين محبوب خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر الہی فرمان کے مطابق بہت بہت درود اور سلام بھیجنے کی سعادت حاصل کی۔عرفات کی مسجد میں نفل ادا کئے اور مکہ معظمہ کو واپس ہوئے۔بعد مغرب طواف اور نوافل کی سعادت حاصل کی۔۱۸ کی رات مکہ معظمہ میں قیام رہا۔۱۹ر کی صبح کو تیسری بار حرم کعبہ میں طواف اور نوافل کی ادائیگی کا موقع نصیب ہوا۔مکہ معظمہ سے جدے کے لئے روانہ ہوئے تو خیال آیا کہ منی جاتے ہوئے جبل نور پر تو کچھ فاصلے سے نگاہ پڑ گئی تھی ( حرا کا مقام جبل نور پر ہے ) اگر ہو سکے تو غارِ ثور کو بھی خواہ دور ہی سے ہو دیکھنا چاہئے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب کو غار ثور کا مقام معلوم نہیں تھا اور کار کے شوفر کو ثور کے لفظ سے کچھ پتہ نہیں چلتا تھا آخر جب میں نے اپنی ناقص عربی میں بتایا وہ غار جس میں ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے عارضی قیام فرمایا تھا تو شوفرمسکرایا اور سر ہلا کر ظاہر کیا کہ وہ مطلب سمجھ گیا ہے۔وہ ہمیں پہاڑ کے دامن تک لے گیا۔غار میں داخلے کا مقام وہاں سے نظر آتا تھا وہ سڑک سے بہت بلندی پر تھا سورج کی تمازت تیز ہو چکی تھی اس لئے ہم نے نیچے سے دیکھ لینا ہی غنیمت سمجھا اور جدے کی جانب روانہ ہو گئے۔دوسرے دن معلوم ہوا کہ جلالتہ الملک نے مجھے ریاض طلب فرمایا ہے۔چنانچہ میں ۲۱ / مارچ کو ریاض حاضر ہوا۔جلالۃ الملک سلطان عبد العزیز ابن سعود کے حالات میں پڑھا تھا کہ جب کویت سے نکل کر انہوں نے ریاض کو تسخیر کیا اس وقت ریاض ایک کچی دیوار سے گھرا ہوا قصبہ تھا، جس پر اپنے چند جانباز ہمراہیوں کے ساتھ رات کے وقت دیوار پھاند کر سلطان عبدالعزیز نے قبضہ کیا تھا۔لیکن وہ ریاض اور تھا اور ان کے فرزند جلالۃ الملک سعود کا دارالحکومت ریاض اور تھا۔جو ریاض میں نے دیکھا وہ ریگستان کے درمیان امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہروں کی مانند ایک شہر جس کو دیوار سے گھرے ہوئے قصبے کے ساتھ کسی قسم کی نسبت نہیں تھی۔یہی صورت بعد میں کویت میں دیکھی۔۱۹۳۴ء میں جب میں نے کویت میں رات بسر کی تو کو یت بھی ایک کچی پکی دیوار سے گھرا ہوا تھا۔۲۸ سال بعد جب مجھے پھر جلد ۲۰