تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 89
تاریخ احمدیت 89 نے وہاں نفل ادا کئے تھے دو نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور اس کے بعد باقی تینوں جانب باری باری رخ کر کے نفل ادا کئے اور مولانا روم کے مصرعہ در درونِ کعبہ رسم قبلہ نیست“ کی حقیقت عملاً تجربے میں آئی۔سعودی خاندان نے جہاں جدے سے مکہ معظمہ ، جدے سے مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ سے منی، مزدلفہ، عرفات کی پختہ سڑکیں صرف زرکثیر سے تعمیر کروا کر حجاج کے لئے ان گنت مشکلات اور صعوبتوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور حج بیت اللہ اور حرمین کی زیارت بے حد آسان کر دی ہے اور منی اور عرفات کے مقامات پر بافراط تازہ میٹھے پانی کے ذخیرے مہیا کر دیئے ہیں، وہاں صفا و مروہ کے درمیان مقام سعی کو مسقف کر کے اور حرم کے صحن کو وسعت دے کر اور اس فرش کو ہموار کر کے حجاج بیت اللہ کے لئے بہت سی سہولتوں کا سامان کر دیا ہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء في الدنيا والاخرة۔میرے عمرہ کے لئے حاضر ہونے سے تھوڑا عرصہ قبل کعبہ شریف کی پرانی چھت کے چار فٹ یا ساڑھے چار فٹ نیچے نئی چھت ڈالی گئی تھی۔پرانی چھت کے متعلق اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کمزور ہورہی ہے۔جب میں کعبہ شریف کے اندر نوافل سے فارغ ہوا تو مجھے بتایا گیا کہ جن انجینئر صاحب کی زیر نگرانی کعبہ شریف کے صحن کی توسیع اور چھت کی تعمیر کا کام ہورہا ہے وہ اس وقت کعبہ شریف کی دونوں چھتوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور مجھے شرف ملاقات سے مشرف کرنے پر رضامند ہیں۔چنانچہ میں کعبہ شریف کی اندرونی سیڑھی کے رستے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور چند منٹ بین السقفین الکعبہ ٹھہرنے کا شرف حاصل کیا۔کعبہ شریف سے نکل کر مقام ابراہیم پر نفل ادا کئے۔زمزم کا پانی خوب سیر ہوکر پیا۔صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ، حضرت اسمعیل علیہم السلام کی کمال فرمانبرداری اور انتہائی قربانیوں کی یاد تازہ کی اور دل میں خشیت اور گداز کی کیفیات کو محسوس کیا۔سعی کی تکمیل کے بعد حطیم کے اندر اور حطیم اور رکن یمانی کے درمیان نفل ادا کئے اور قیام گاہ پر واپس آیا۔ظہرین کے بعد منی، مزدلفہ اور عرفات حاضر ہوئے۔جبل رحمت پر دعا کی اور سید ولد آدم جلد ۲۰