تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 83 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 83

تاریخ احمدیت 86 83 حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا سفر حرمین شریفین جلد ۲۰ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۱۹۱۴ء سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کے لئے بیتاب تھے۔آپ کی یہ آرزو اس سال مارچ میں پوری ہوئی چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل یکم اپریل ۱۹۵۸ء میں تحریر فرمایا کہ : - ا خویم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اپنے خط محرره ۲۳ / مارچ ۱۹۵۸ء کے ذریعے جدہ سے مطلع فرماتے ہیں کہ وہ ۱۷ / مارچ کو بیروت سے بذریعہ ہوائی جہاز جدہ پہنچے اور ۱۸ / مارچ کی صبح کو مکہ مکرمہ حاضر ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ عمرہ کی سعادت حاصل کی۔رستہ میں مسجد حدیبیہ میں دو نفل ادا کئے اور حرم شریف میں علاوہ مسنون نوافل کے خانہ کعبہ میں اول مقام نبوی پر اور پھر تینوں باقی سمتوں میں کھڑے ہو کر نفل ادا کئے۔عصر کے بعد منی ، مزدلفہ اور عرفات گئے۔عرفات میں بھی دعائیں کیں۔بعد مغرب پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور نفل ادا کئے ۱۹ کی صبح کو پھر طواف کیا اور نفل ادا کئے۔چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ اس کے بعد جدہ واپس لوٹا۔۲۲ کو بعد مغرب پھر طواف کے لئے مکہ مکرمہ گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعاؤں کا موقعہ اور توفیق بفراغت ملتی رہی۔( دین حق ) اور احمدیت کے لئے دعا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود، حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضور کے خاندان اور حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لئے خاص طور پر دعا کی توفیق ملی۔آج شام (۲۳ / مارچ) کو موٹر پر مدینہ منورہ جانے کا انتظام ہے اور پرسوں دوپہر تک وہاں سے واپسی ہے۔۲۶ کی صبح کو پھر طواف کے لئے مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے۔اس کے بعد بیروت واپس جانے کا پروگرام ہے اور وہاں سے اسی دن ۳۰ کو دمشق سے روم اور جنیوا ہوتا ہوا انشاء اللہ ۱/۸اپریل تک ہیگ پہنچ جاؤں گا۔وباللہ التوفیق۔عمرہ اور حج کے لئے اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سہولت میسر ہے۔جدہ میں بحری جہازوں کے لئے اب باقاعدہ بندرگارہ ہے۔مسافر بندرگاہ میں ہی اترتے ہیں اور بندرگاہ سے ہی سوار ہوتے ہیں۔بازار اور