تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 84 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 84

تاریخ احمدیت 84 سڑکیں صاف اور فراخ ہیں۔پانی با افراط ہے۔جدہ سے مکہ کی سڑک عمدہ ہے۔اور ۴۵ میل کا سفر سوا گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔سڑک پر دن رات آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔کسی قسم کا خوف اور دقت نہیں۔جدہ اور مدینہ کی سڑک سنا ہے بہت اچھی ہے۔موٹر کا سفر ۵ گھنٹہ میں طے ہو جاتا ہے۔مکہ سے منیٰ اور مزدلفہ اور عرفات تک تین چار چوڑی سڑکیں بن چکی ہیں۔پانی کا عمدہ انتظام ہے۔حرم شریف کی توسیع کے لئے اردگرد کے مکانات خرید کر گرائے جاچکے ہیں۔اور توسیع کا پروگرام زیر تکمیل ہے۔صفا اور مردہ کے درمیان سے دوکانیں اٹھادی گئی ہیں اور گاڑیوں اور موٹروں کی آمد ورفت بند کر دی گئی ہے اوپر چھت ڈال دی گئی ہے اور نیچے فرش کرنے کا پروگرام ہے۔حرم شریف کے اندر کے حصہ میں سنگ مرمر کا فرش ہو چکا ہے۔صرف تھوڑا سا حصہ باقی ہے۔توسیع کے سلسلہ میں زمزم کو پیچھے ہٹانے کا فیصلہ ہے۔چوہدری صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ میں نے نوافل کے متعلق یہ معمول رکھا ہے کہ حرم شریف میں داخل ہونے پر رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان دو نفل ، پھر طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دونفل پھر حطیم اور خانہ کعبہ کے درمیان دو نفل۔سب سے زیادہ رقت کے ساتھ دعا کرنے کا موقعہ ملتزم کے مقام پر یعنی بیت اللہ کے دروازہ کے نیچے میسر آتا رہا ہے۔فالحمد للہ علیٰ ذالک۔۱۱۵ جلد ۲۰ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ازاں بعد الفضل ۲۳ را پریل ۱۹۵۸ء میں تحریر فرمایا کہ : - محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے عمرہ کے حالات ایک گزشتہ اشاعت میں چھپ چکے ہیں۔اس کے بعد جو خط محررہ ۱۲ را پریل ۱۹۵۸ء چوہدری صاحب موصوف کی طرف سے ہیگ سے موصول ہوا ہے اس میں زیارت مدینہ کے مندرجہ ذیل کوائف درج ہیں جو دوستوں کی خدمت میں دعا کی تحریک کی غرض سے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔چوہدری صاحب موصوف لکھتے ہیں : - پچھلا عریضہ لکھنے کے بعد خاکسار بذریعہ موٹر مدینہ منورہ حاضر