تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 81 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 81

M جس وقت یہ اخبار مجھے ملا۔اس وقت میرے پاس الحاج مرزا اللہ دتہ اور الحاج میاں برکت علی صاحب مینجنگ ڈائریکٹر گجرات پنجاب بس سروس (غیر احمدیاں) اور برادرم ملک عزیز احمد صاحب مبلغ جاوا کے والد محترم ملک محمد شفیع صاحب تشریف فرما تھے اور اخبار موصول ہونے سے ایک منٹ پہلے مرزا احداثہ صاحب نے برسبیل تذکرہ مجھ سے پوچھا کہ آجکل اخبارات میں آپ کی جماعت کے کسی اندرونی انتشار کا ذکر آرہا ہے یہ کیا معامہ ہے تو میں نے ان سے کہا کہ اخبارات خواہ مخواہ اس بارے میں جھوٹی خبریں شائع کر رہے ہیں اور یہی ان کا ہمارے خلاف پرانا شیوہ ہے اتنے میں اخبار سفینہ آگیا تو میں نے اسی وقت مرزا صاحب موصوف کو یہ اخبارہ دیکھا کر کہا که به تازہ بتازہ اور زندہ مثال دیکھ لیجے میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اور ان تمام آدمیوں پر جو اس فتنہ میں شریک ہیں لعنت بھیجتا ہوں اور سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده ال تعالی بنصرہ العزیز پہ دل و جان سے فدا ہوں اور حضور کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہی اپنی سنجات سمجھتا ہوں لیکن اخبار مذکور کی خباثت ملاحظہ ہو کہ میرا نام بھی اس نے ان لعنتیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے اس سے بڑھ کر اور ثبوت آپ کیا چاہتے ہیں حضور! میں یہ سطور حضور کی خدمت میں اس لئے نہیں لکھ رہا کہ مجھے یہ رسم ہے کہ شاید حضور اخبار مذکور کی اس شرارت آمیز خبر کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی گمان فرما ئیں۔کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ میرے بارے میں حضور کو کبھی کوئی شبہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ خاکسار کا یہ عریضہ " الفضل میں شائع کر دیا جائے تاکہ مخالف اخبارات اور فتنہ پر دانوں کی کذب آفرینی متعلیم یافتہ اور انصاف پسند غیر احمدی شرفاء پہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور وہ ان کے جھوٹے پر دیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔حضور کے بارے میں میرا ایمان علی وجہ البصیرت ہے اور حضورہ کی ذات سے مجھے عقیدت نہیں بلکہ عشق ہے اور میں حضور کو اس وقت سے مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق یقین کرتا ہوں جبکہ ابھی تک حضور نے اللہ تعالی سے علم پاکر مصلح موعود ہونے کا دعوی بھی نہیں فرمایا تھا۔اس بارے میں سلسلہ کا لٹریچر اور میری تحریر ات گواہ ہیں پھر جب حضور نے علم الہی کی بنا پر مصلح موعود ہونے کا دعوی فرمایا تو وہ ایمان جو علم الیقین کے رنگ میں مقا حق الیقین بن گیا۔اور اب تک خدا