تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 76
64 جزو ہے۔خاک کو یاد ھے کہ 1910 میں لندن میں جس دن وہ ڈاک ملی جس میں اختلاف کے متعلق مواد آیا تھا تو ابھی دن ڈارک کے واپس جانے کا تھا۔بس اتنا معلوم ہونے پر کہ اختلاف کیا ھے ذاکرتے بیعت کا خط لکھ کر ڈاک میں ڈال دیا اور باقی حصہ ڈاک بعد میں پڑ جا جاتا تھا اس دن سے آج تک پھر محض اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم اور ذرہ نوازی سے با وجود اپنی کوتا ہوں۔کمزوریوں اور غفلتوں کے وہ عہد جو اس دن باندھا تھا مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔آیات اور بنیات - انعامات اور نوازشان نے اس تعلق کو وہ یک دیدیا ھے کو قرد دل جو اس کی لذات سے تو متواتر بہرہ ور ہوتا ہے اس کی حقیقت کی نہ کو نہیں پہنچ پاتا چہ جائیکہ قلم اسے احاطہ تحریر میں لا سکے۔اب جو عہد حضور نے طلب فرمایا ہے دل و جان اس کے تصدق ہیں۔جو کچھ پہلے حوالہ اچھے ہیں وہ اب بھی حوالہ ھے۔ظا ہریانا ہونے کی وجہ سے فا ریہ التجا کرنے پر مجبور ہے کہ ایسے اعلان کے ساتھ حضور یہ اعلان بھی فرما دیا کریں کہ ہم اپنے فلان دور افتادہ علم کی طرف سے اس پر لبیک کا اعلان کرتے ہیں تا یہ خاک کسی موقعہ پر تو اب میں پیچھے نہ رہ جائے۔حضور کو اس در مو من نطق رہیگا تو الہ تعالٰی بھی اپنی کمال ساری اور ذرہ نوازی کے خاتم بالخیر کی ہوس کو جو ہر مومن کی آخری ہوس تولی سے پورا کرتے ہوئے فارقلی فی عبادی کی بشارت کیا تھ اپنے جان طلب فرما لیگا بابی انت والی طالب دعا فاک حضور کا علی اسلام بخور النکان 7