تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 74
۷۴ نقل خط چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب بسم اللہ الرحمن الرحيم سیگار اگست ۹۵۶ اید سیدنا وامامنا السلام علیکم ورحمة الله و بركاته یہاں الفضل کے پرچھے ہوائی ڈاک سے ہفتہ میں ایک بار پہنچتے ہیں۔ابھی ابھی اس جولائی کفائت ۵ اگست کے پرچے ملے۔۴ راگست کے پرچہ میں حضور کا اعلان پڑھا۔اسکے پڑھنے پر اکسا رہ گزارش کرتا ہے۔اندرین دیں آمده از مادریم و اندرسن از دار دنیا بگذریم انشاء الله باران سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک چہرہ پر نظر پڑنے کی خوش نہیں کی تھے ہی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل ورحم اور ذرہ نوازی سے یہ حقیقت ایک بچے کے دل میں راسخ کر دی کہ یہ چہرہ راستیانہ پہلوان کا چہرہ ہے۔پھر جذبات کے ساتھ دلائل۔براہین بینات کا پے سلسلہ شامل ہو گیا اور جاری ہے۔حضور کا وجود یوم پیدائش بلکہ اس سے بھی قبل سے اس سلسلہ کا ایک اہم جزو ہے۔بھی خاکسار کو یا د ہے کہ اللہ میں لنڈن میں جس دن وہ ڈاک ملی جس میں اختلاف کے متعلق مواد آیا تھا تو وہی دن ڈاک کے واپس جانے کا تھا بس اتنا معلوم ہونے پر کہ اختلاف کیا ہے خاکسار نے بیعیت کا خط لکھ کر ڈاک میں ڈال دیا اور باقی حصہ ڈاک بعد میں پڑھا جاتا رہا۔اس دن سے آج تک پھر محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم اور ذرہ نوازی سے با وجود اپنی کو تا ہیوں۔کمزوریوں اور فضلتوں کے دو عہد جو اس دن باندھا تھا مضبوط سے مضبوط تر ہو گیا آیات اور بنیات العام اور نوازشات نے اس تعلق کو وہ رنگ دے دیا ہے کہ خود دل جو اس کی لذات سے تو متواتر بہرہ ور ہوتا ہے اس کی حقیقت کی تہ نہیں پہنچ پاتا چہ جائیکہ قلم اسے احاطہ اسخریہ میں لاسکے۔اب جو عہد حضور نے طلب فرمایا ہے دل و جان اس کے مصدق ہیں۔جو کچھ پہلے حوالہ کر چکے ہیں وہ اب بھی حوالہ ہے ظاہری فاصلہ ہونے کی وجہ سے خاکسار یہ التجا کرنے پر مجبور ہے کہ ایسے اعلان کے ساتھ حضور یہ اعلان فرما دیا کریں کہ ہم اپنے فلاں دور افتادہ غلام کی طرف سے "